25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
کرناٹک میں اقتدار کی صبح

سدارامیا کی رخصتی، ڈی کے شیوکمار کی آمد

بنگلورو:
کرناٹک کی سیاست میں ایک ایسا موڑ آ پہنچا ہے جس کی سرگوشیاں پچھلے تین برسوں سے اقتدار کی راہداریوں میں سنائی دے رہی تھیں۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور وزیرِ اعلیٰ سدارامیا نے بالآخر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا، اور یوں ریاست کی سیاست میں جاری طاقت کی کشمکش ایک نئے باب میں داخل ہو گئی ہے۔ اب قیادت کی باگ ڈور نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے ہاتھوں میں ہوگی، جو پارٹی کو 2028 کے اسمبلی انتخابات کی طرف لے جائیں گے۔

یہ اعلان بنگلورو میں ایک ناشتے کی نشست کے دوران سامنے آیا، جہاں سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر سیاسی اختلافات کے خاتمے اور پارٹی اتحاد کا پیغام دیا۔ کانگریس نے بھی اپنے سرکاری پیغام میں کہا:
“اتحاد ہی ہماری طاقت ہے، عوامی خدمت ہمارا عہد۔”

سیاسی حلقوں میں اس تبدیلی کو محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ کانگریس کی داخلی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات کے بعد ایک غیر اعلانیہ معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت سدارامیا ڈھائی برس تک وزیرِ اعلیٰ رہیں گے اور اس کے بعد یہ منصب ڈی کے شیوکمار کو منتقل کر دیا جائے گا۔ اگرچہ پارٹی نے کبھی اس معاہدے کی رسمی توثیق نہیں کی، لیکن وقت کے ساتھ یہ افواہ سیاسی حقیقت بنتی گئی۔

گزشتہ دو دنوں کے دوران دہلی میں کانگریس قیادت کے ساتھ مسلسل مشاورت ہوئی۔ پارٹی صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور کے سی وینوگوپال نے الگ الگ اور مشترکہ ملاقاتوں میں اس تبدیلی کو حتمی شکل دی۔ ذرائع کے مطابق پرینکا گاندھی نے قیادت کی تبدیلی کے حق میں اہم کردار ادا کیا۔

ناشتے کی اس نشست میں سیاست کے تلخ بابوں کو نرم کرنے کے لیے کرناٹک کے روایتی ذائقے بھی موجود تھے — مسالہ ڈوسہ، اڈلی، سامبر، چٹنی اور کیسری بات۔ مگر اصل منظر وہ تھا جب سدارامیا نے ڈی کے شیوکمار کو آگے بڑھنے کا اشارہ دیا؛ ایک ایسا لمحہ جسے کانگریس اپنے اتحاد کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف داخلی توازن برقرار رکھنے کے لیے نہیں بلکہ 2028 کے انتخابات سے پہلے عوامی ناراضگی اور ممکنہ اینٹی اِنکمبنسی لہر کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی بھی ہے۔ ڈی کے شیوکمار کے حامیوں کا ماننا ہے کہ وہ 2023 کی فتح کے اصل معمار تھے، جنہوں نے ووکلیگا ووٹ کو جے ڈی ایس سے کھینچ کر کانگریس کے حق میں موڑا۔

دوسری جانب سدارامیا اب بھی ریاستی سیاست میں اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ انہیں راجیہ سبھا کی نشست کی پیشکش کی گئی، تاہم وہ فوری طور پر قومی سیاست میں جانے کے بجائے اپنی اسمبلی نشست “ورونا” اور 2028 کی انتخابی مہم پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

اس تمام سیاسی ڈرامے کے درمیان ایک غیر متوقع رکاوٹ بھی سامنے آئی۔ کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوت ایک خاندانی علالت کے باعث ممبئی روانہ ہو گئے، جس کے سبب ڈی کے شیوکمار کی ممکنہ حلف برداری کی تقریب مؤخر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اقتدار کے ایوانوں میں چہروں کی تبدیلی نئی بات نہیں، مگر اصل سوال ہمیشہ باقی رہتا ہے:
کیا قیادت کی تبدیلی عوام کی تقدیر بھی بدل سکے گی، یا سیاست صرف کرسیوں کے درمیان سفر کرتی رہے گی؟


Morning Of Transition In Karnataka

Siddaramaiah Steps Down, DK Shivakumar Rises

Bengaluru:
Karnataka witnessed a defining political transition as Congress veteran Siddaramaiah formally announced his resignation as Chief Minister, bringing an end to a leadership struggle that had simmered within the party for nearly three years. Deputy Chief Minister DK Shivakumar is now set to take over the reins and lead the Congress into the 2028 Assembly elections.

The announcement came during a breakfast meeting at Siddaramaiah’s residence, where the outgoing Chief Minister and Shivakumar embraced publicly, signalling unity after years of political tension. The Karnataka Congress later reinforced the message on social media, declaring:
“Unity is our strength. Public service is our eternal commitment.”

Political observers view the transition not merely as a change of leadership, but as the culmination of an internal power-sharing arrangement believed to have been crafted after the Congress victory in 2023. Though never officially acknowledged, the understanding reportedly promised Siddaramaiah the top post for two-and-a-half years before passing it on to Shivakumar.

Over the past two days, intense consultations took place in Delhi involving Congress president Mallikarjun Kharge, Rahul Gandhi, Priyanka Gandhi Vadra and KC Venugopal. Sources suggest Priyanka Gandhi strongly supported the leadership transition.

The breakfast meeting itself carried symbolic weight. Traditional Kannada dishes — masala dosa, idli, sambar, chutney and kesaribath — accompanied what many saw as a carefully choreographed political handover. Images of Siddaramaiah warmly greeting Shivakumar quickly spread online, aimed at countering opposition claims of division within the Congress.

Analysts believe the move is also part of a broader electoral strategy. The Congress leadership appears eager to manage anti-incumbency ahead of the 2028 polls while rewarding Shivakumar, widely credited with mobilising key Vokkaliga support and strengthening the party’s organisational machinery during the 2023 campaign.

Meanwhile, Siddaramaiah is expected to remain influential in Karnataka politics. Though reports suggest he was offered a Rajya Sabha seat as part of the transition formula, sources indicate he may prefer to continue as MLA from Varuna and focus on the next state election before moving to national politics.

Adding a final twist to the political drama, Karnataka Governor Thawarchand Gehlot reportedly left for Mumbai due to a family emergency, creating uncertainty around the timing of Shivakumar’s swearing-in ceremony.

In democratic politics, leadership changes are often presented as renewal. Yet beyond the symbolism of embraces and ceremonies lies the enduring question:
Will a change in power truly transform governance, or merely rearrange the faces of authority?

Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
مئی 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading