الف نیوز شمارہ نمبر: 223| تاریخ: 29 مئی 2026 | جمعہ
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
ملک کے سنجیدہ، انصاف پسند اور محبِ وطن لوگ آگے آئیں
ملک کے حالات پر نظر ڈالیں تو دل بے اختیار بے چین ہو اٹھتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے معاشرے کی فضا میں نفرت کا زہر دھیرے دھیرے اس طرح گھولا جا رہا ہے کہ انسانیت، رواداری اور باہمی احترام کی قدریں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ آج ملک کے ایک بڑے طبقے، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف گالی گلوچ، دھمکی، تشدد اور نفرت انگیز رویے عام ہوتے جا رہے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف سڑکوں پر موجود مشتعل ہجوم تک محدود نہیں رہا بلکہ اقتدار کے ایوانوں سے بھی ایسے بیانات سنائی دیتے ہیں جو سماج کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا سبب بنتے ہیں۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ قانون کے محافظوں کی موجودگی میں بھی نفرت کے سوداگر خود کو بے خوف محسوس کرتے ہیں۔ کہیں مسجدوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، کہیں برسوں پرانی عبادت گاہوں کے وجود کو چیلنج کیا جاتا ہے، اور کہیں تاریخ کو سیاست کی بھٹی میں ڈال کر نئی نفرتیں پیدا کی جاتی ہیں۔ اگر کسی مقام کے بارے میں یہ دعویٰ کر دیا جائے کہ صدیوں پہلے وہاں کوئی مندر تھا تو فوراً ماحول کو کشیدہ بنا دیا جاتا ہے۔ عدالتوں کے فیصلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے، مگر عام لوگوں کے دلوں میں یہ احساس ضرور پیدا ہو رہا ہے کہ مذہبی معاملات کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے مسئلے کو بھی اکثر نفرت کی سیاست کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ ایک طرف گائے کو مذہبی جذبات سے جوڑا جاتا ہے، دوسری طرف مسلمانوں کے جذبات اور مذہبی آزادی کے سوالات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال نے عام شہریوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا ملک میں قانون کی حکمرانی کمزور ہو رہی ہے؟ کیا طاقت ور گروہ اپنی مرضی کو قانون پر فوقیت دینا چاہتے ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ اگر یہی روش جاری رہی تو ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟
ہندوستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ تہذیبوں، زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کا حسین گلستاں ہے۔ اس کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، باہمی احترام اور اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ اگر نفرت کی آگ کو مسلسل ہوا دی جاتی رہی تو نقصان صرف کسی ایک طبقے کا نہیں ہوگا بلکہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں آئے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، غرور اور نفرت کی بنیاد پر کھڑی ہونے والی طاقتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔ فرعون کا غرور بھی دریا میں ڈوب گیا تھا، اور ہٹلر کی طاقت بھی انسانیت کے خون میں بہہ کر مٹی میں مل گئی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے سنجیدہ، انصاف پسند اور محبِ وطن لوگ آگے آئیں۔ وہ نفرت کے اس طوفان کے خلاف آواز بلند کریں جو ملک کی روح کو زخمی کر رہا ہے۔ سیاست کا مقصد عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی ہونا چاہیے، نہ کہ مذہب اور عبادت گاہوں کے نام پر دلوں میں دیواریں کھڑی کرنا۔ مسجد اور مندر کے جھگڑوں میں قوموں کا مستقبل تعمیر نہیں ہوتا؛ قومیں تعلیم، انصاف، بھائی چارے، معیشت اور انسان دوستی سے ترقی کرتی ہیں۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ نفرت وقتی جوش تو پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار امن اور محبت نہیں دے سکتی۔ دلوں کو جیتنے کا راستہ محبت، انصاف اور رواداری سے گزرتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
یہ وطن ہم سب کا ہے۔ اس کی مٹی میں ہر مذہب، ہر زبان اور ہر طبقے کے لوگوں کا پسینہ شامل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نفرت کے بجائے محبت کا چراغ روشن کریں، اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اپنائیں، اور ملک کو ایسا امن کا گہوارہ بنائیں جہاں ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔
یاد رکھئے، ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔ وقت کا پہیہ گھومتا ہے، اور تاریخ خاموشی سے اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ خدا کی لاٹھی بے آواز ضرور ہوتی ہے، مگر جب چلتی ہے تو بڑے بڑے غرور مٹی میں مل جاتے ہیں۔ اس دن سے ڈرنا چاہیے جب انسان کے پاس طاقت تو ہو مگر انسانیت نہ ہو، آواز تو ہو مگر سچ نہ ہو، اور اقتدار تو ہو مگر دلوں میں عوام کی محبت نہ ہو۔








Leave a Reply