Photo al-monitor
مشرقِ وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر کشیدگی کے بادلوں سے ڈھک گئی ہے، جہاں طاقت، سفارت اور بقا کی کشمکش ایک نازک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتین یاہو نے ایک سخت اور پُراعتماد بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو "کچل دیا گیا ہے” اور اب ایران خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق، ایران نے برسوں تک خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے اسرائیل کو گھیرنے کی کوشش کی—غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، شام میں بشار الاسد کی حکومت، عراق کی ملیشیائیں اور یمن میں حوثی گروہ—لیکن اب منظر بدل چکا ہے۔
"جو ہمیں مٹانے کی دھمکیاں دیتے تھے، آج خود مٹنے کے خوف سے دوچار ہیں”، انہوں نے کہا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہو گئے۔ تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والی اس سفارتی کوشش کے باوجود کوئی واضح پیش رفت نہ ہو سکی۔
امریکی نائب صدر جے. ڈی. وینس نے کہا کہ مذاکرات میں "کوئی ٹھوس نتیجہ” حاصل نہیں ہوا، اور ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی نہ ملنا سب سے بڑی رکاوٹ رہی۔ دوسری جانب تہران نے امریکی مطالبات کو "غیر معقول” قرار دیتے ہوئے ناکامی کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرایا۔
ادھر ڈونالڈ ٹرمپ نے عسکری کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے میدانِ جنگ میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے، جبکہ چین کی ایران کو ممکنہ حمایت پر بھی تشویش ظاہر کی۔
خلیج میں ایک نازک جنگ بندی کے باوجود، آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، جہاں امریکی بحری جہازوں کی موجودگی اور ایرانی الزامات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
یہ تمام پیش رفتیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ محض ایک فیصلے کا محتاج ہے۔
The Middle East once again stands beneath a sky heavy with tension, where power, diplomacy, and survival intersect at a fragile crossroads. Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu, in a firm and assertive statement, claimed that Iran’s nuclear and ballistic missile programs have been “crushed,” asserting that Tehran is now struggling for its very survival.
According to him, Iran had long attempted to encircle Israel through a network of regional allies—Hamas in Gaza, Hezbollah in Lebanon, the Assad regime in Syria, militias in Iraq, and the Houthis in Yemen. “Those who once threatened our annihilation are now facing the fear of their own,” he declared.
His remarks come in the wake of failed peace talks between the United States and Iran, hosted in Pakistan, which concluded without any meaningful breakthrough after nearly 21 hours of negotiations.
U.S. Vice President JD Vance acknowledged the lack of progress, emphasizing that the core issue remained Iran’s unwillingness to provide a clear commitment against pursuing nuclear weapons. Meanwhile, Tehran dismissed Washington’s demands as “unreasonable,” blaming the U.S. for the deadlock.
Adding to the rhetoric, President Donald Trump claimed a decisive military advantage, while cautioning that any support from China to Iran could further complicate the geopolitical landscape.
Despite a delicate ceasefire in the Gulf, tensions continue to rise in the Strait of Hormuz, where the presence of U.S. warships and Iranian denials have intensified uncertainty.
These developments reflect a world poised at a critical juncture—where the distance between war and peace may depend on a single decision.




Leave a Reply