25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
غزہ: جنگ کے سائے میں جاری خاموش قیامت


Image
Photo: Al-Monitor
Image
Photo Al-Jazeera

جب دنیا کی نظریں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ پر مرکوز تھیں، اسی دوران غزہ ایک بار پھر خاموشی کے ساتھ تباہی کے اندھیروں میں ڈوبا رہا۔

28 فروری سے 8 اپریل تک کے چالیس دنوں میں، اسرائیل نے غزہ پر 36 دن بمباری کی — گویا امن کے نام پر اعلان کردہ جنگ بندی محض ایک سراب تھی۔ ان حملوں میں کم از کم 107 فلسطینی شہید اور 342 زخمی ہوئے۔

چھ ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کے باوجود، اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف جاری رہیں بلکہ انسانی امداد کے راستے بھی مسدود کر دیے گئے۔ رفح بارڈر بند کر دیا گیا، خوراک اور ادویات کی فراہمی روک دی گئی، اور صرف 8 فیصد مریضوں کو طبی انخلا کی اجازت ملی، جبکہ امدادی ٹرکوں میں سے محض 20 فیصد کو داخلے کی اجازت دی گئی۔

یہ اعداد و شمار صرف ہندسے نہیں بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک زندگی، ایک خاندان، اور ایک ادھوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔

مجموعی طور پر، اس جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ ہزاروں اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں — جیسے وقت نے خود ان پر خاموشی کی چادر ڈال دی ہو۔

یہ سوال آج بھی زندہ ہے: کیا دنیا کی خاموشی بھی اس سانحے کا حصہ نہیں؟


English

Gaza: A Silent Catastrophe Amid the Noise of War

While global attention remained fixed on the conflict between the United States and Iran, Gaza continued to endure devastation in near silence.

Between February 28 and April 8, Israel carried out airstrikes on Gaza on 36 out of 40 days — turning what was termed a “ceasefire” into little more than an illusion. During this period, at least 107 Palestinians were killed and 342 others injured.

Despite a ceasefire declared six months ago, Israeli operations persisted, accompanied by severe restrictions on humanitarian aid. The Rafah crossing remained closed, cutting off essential supplies of food and medicine. Only 8% of medical evacuations were permitted, and merely 20% of aid trucks were allowed entry.

These are not just statistics — each number represents a human life, a grieving family, and an unfinished story.

Overall, since the beginning of the war, more than 72,000 Palestinians have been killed — the majority being women and children — and over 172,000 injured. Thousands more remain buried beneath rubble, their fate unknown, as if time itself has fallen silent over them.

The question still lingers: does the world’s silence make it complicit in this unfolding tragedy?


Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading