25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
خلیجِ فارس کے ساحل پر واقع بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب آج صبح ایک اور دھماکا

خلیجِ فارس کے ساحل پر واقع بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب آج صبح ایک اور دھماکے کی خبر نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ ایران کی جانب سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو مطلع کیا گیا کہ ایک میزائل نما پروجیکٹائل تنصیب کے قریب آ گرا — حالیہ ہفتوں میں اس نوعیت کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔

اس واقعے میں سیکیورٹی پر مامور ایک اہلکار جان کی بازی ہار گیا، جب کہ دھماکے کے اثرات سے ایک عمارت کو نقصان پہنچا۔ تاہم حکام کے مطابق تابکاری کی سطح میں کسی قسم کا اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا — گویا خطرہ ابھی دروازے پر ہے، مگر اندر داخل نہیں ہوا۔

ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی تنصیبات یا ان کے اطراف کو کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے ذیلی ڈھانچے بھی حفاظتی نظام کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر جنگی حالات میں ایٹمی تحفظ کے “سات ستونوں” کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے فریقین سے زیادہ سے زیادہ عسکری ضبط کی اپیل کی۔

یہ واقعہ محض ایک حملہ نہیں، بلکہ ایک سوال ہے — کیا جنگ کی آگ اب انسان کے ہاتھ سے نکل کر اُس روشنی کو بھی نگلنے کے قریب ہے جو توانائی کے نام پر پیدا کی گئی تھی؟


English News

A fresh tremor of concern has emerged from the shores of the Persian Gulf, where a projectile reportedly struck near the Bushehr Nuclear Power Plant this morning. Iran informed the International Atomic Energy Agency that this marks the fourth such incident in recent weeks — a pattern that deepens global unease.

The attack claimed the life of a member of the plant’s physical protection staff, while a building on site sustained damage from shockwaves and fragments. Yet, in a fragile reassurance, no rise in radiation levels has been detected — the danger, it seems, hovers at the threshold but has not yet crossed it.

IAEA Director General Rafael Mariano Grossi expressed grave concern, emphasizing that nuclear facilities and their surrounding areas must never be targeted. He warned that even auxiliary buildings may house critical safety systems. Reiterating the need for utmost military restraint, Grossi stressed adherence to the “seven indispensable pillars” of nuclear safety and security during armed conflict.

This incident is not merely an episode of violence — it is a stark reminder. In an age where war edges closer to nuclear thresholds, humanity must ask: can power and prudence still walk hand in hand, or are we inching toward a silence shaped by our own fire?

Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading