ایودھیا رام مندر اجتماعی کاوش کا نتیجہ، بھارت پہلے ہی ہندو راشٹر: موہن بھاگوت
ناگپور، یکم مئی 2026: موہن بھاگوت، سربراہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ملک بھر کے عوام اور قیادت کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، اور بھارت کو ہندو راشٹر قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ پہلے ہی ایک حقیقت ہے۔
انہوں نے یہ بات ناگپور کے ریشم باغ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا اہتمام ڈاکٹر ہیڈگیوار اسمارک سمیتی نے ان افراد کے اعزاز میں کیا تھا جنہوں نے رام مندر کی تعمیر میں کردار ادا کیا۔
موہن بھاگوت نے کہا کہ یہ تعمیر "بھگوان رام کی مرضی” سے ممکن ہوئی، اور اسے بھگوان کرشن کے گووردھن اٹھانے سے تشبیہ دی۔ ان کے مطابق یہ عمل عوامی شراکت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سناتن دھرم کی تجدید بھارت کے عروج سے وابستہ ہے، جس کا تصور سری اوروبندو نے پیش کیا تھا، اور یہ عمل 1857 سے شروع ہو چکا ہے۔
انہوں نے 2014 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر یہ تاثر دیا گیا کہ بھارت نے حقیقی معنوں میں نوآبادیاتی اثرات سے نجات حاصل کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مضبوط سیاسی عزم کے بغیر رام مندر کی تعمیر ممکن تھی، اور کہا کہ رام جنم بھومی تحریک اس عمل کا بنیادی ستون رہی۔
موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت کو ہندو راشٹر قرار دینے کا مطالبہ غیر ضروری ہے، کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت ہے، جسے کسی اعلان کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اب وقت ہے کہ ملک کو مزید مضبوط، عظیم اور خوبصورت بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں۔
Ram Temple a result of collective effort; India already a Hindu Rashtra: Mohan Bhagwat
Nagpur, May 1, 2026: Mohan Bhagwat, chief of the Rashtriya Swayamsevak Sangh, stated that the construction of the Ram Temple in Ayodhya was the outcome of combined efforts by leadership and people across the country. He added that there is no need to declare India a Hindu Rashtra, as it already exists as one.
He was addressing a felicitation programme held in Reshimbagh, Nagpur, organised by the Dr Hedgewar Smarak Samiti to honour individuals who contributed to the temple’s construction.
Bhagwat described the temple’s construction as an act of divine will, drawing a parallel with Lord Krishna lifting Govardhan, and emphasized that such achievements require collective participation.
He further said that the revival of Sanatan Dharma is linked to the resurgence of Bharat, an idea he attributed to Sri Aurobindo, and noted that this process has been underway since 1857.
Referring to the 2014 general elections, he remarked that they marked a turning point in India’s assertion of its civilizational identity.
He questioned whether the temple could have been built without political will and credited the Ram Janmabhoomi movement as a foundational force behind it.
Bhagwat concluded by saying that declaring India a Hindu Rashtra is unnecessary, as it is already an existing reality, and called for continued efforts to strengthen and elevate the nation.
ایک آئینی وضاحت
الف نیوز کا مؤقف
- بھارت کا آئین، جو آئینِ ہند کہلاتا ہے، 1950 میں نافذ ہوا۔
- اس آئین کے دیباچے (Preamble) میں بھارت کو ایک “Sovereign, Socialist, Secular, Democratic Republic” قرار دیا گیا ہے۔
- "Secular” کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کسی ایک مذہب کو سرکاری حیثیت نہیں دیتی، بلکہ تمام مذاہب کے ساتھ مساوی برتاؤ کرتی ہے۔
لہٰذا:
- کسی فرد، تنظیم یا سیاسی رہنما کے بیان سے ملک کی آئینی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔
- بھارت کو "ہندو راشٹر” بنانے کے لیے آئین میں باقاعدہ ترمیم درکار ہوگی، جو ایک پیچیدہ پارلیمانی اور قانونی عمل ہے۔
- جب تک ایسی کوئی آئینی ترمیم نہیں ہوتی، بھارت قانونی اور آئینی طور پر ایک سیکولر جمہوریہ ہی رہے گا۔
سادہ الفاظ میں: بیان ایک رائے یا نظریہ ہو سکتا ہے، مگر ملک کی شناخت کا فیصلہ آئین کرتا ہے، نہ کہ تقریریں۔








Leave a Reply