25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
اسلام آباد میں امید اور احتیاط کے درمیان مکالمہ — امریکہ و ایران مذاکرات کا نیا باب


اسلام آباد کی فضا میں سفارت کاری کی ایک خاموش مگر معنی خیز جنبش محسوس کی جا رہی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان ایک ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے—گویا ایک ایسا پل جو دو متصادم کناروں کو ملانے کی کوشش کر رہا ہو۔

ان مذاکرات میں شہباز شریف کی میزبانی اور سفارتی حکمت عملی نمایاں ہے، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ امریکی وفد میں جے ڈی وینس سمیت اہم نمائندے شریک ہیں۔

ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ واشنگٹن بعض نرم رویّے اختیار کرنے پر آمادہ ہے—جیسے مرحلہ وار تعاون اور ایرانی اثاثوں کے ممکنہ انجماد میں نرمی—مگر اس کے ساتھ ہی اس کی بنیادی شرائط بدستور قائم ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہے۔

دوسری جانب تہران نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی دیرپا معاہدہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ یقینی نہ بنایا جائے۔

یہ مذاکرات اگرچہ ایک امید کی کرن لیے ہوئے ہیں، مگر پسِ پردہ اختلافات کی گہری خلیج اب بھی موجود ہے—لبنان کی صورتِ حال، پابندیوں کا خاتمہ، اور علاقائی طاقت کا توازن ایسے سوالات ہیں جو اب بھی جواب کے منتظر ہیں۔

اگر یہ سفارتی سفر کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکا، تو ایک بار پھر جنگ کے بادل گہرے ہو سکتے ہیں—اور یوں انسانیت ایک اور آزمائش کے دہانے پر کھڑی ہو گی۔


Between Hope and Hesitation — A Fragile Opening in US–Iran Talks

In Islamabad, diplomacy moves in quiet but meaningful currents as the United States and Iran step into a new round of negotiations, seeking a path away from prolonged confrontation in West Asia. Acting as a bridge between two adversaries, Pakistan has taken on the delicate role of mediator.

Under the stewardship of Shehbaz Sharif, the talks bring together key figures including Iran’s parliamentary speaker Mohammad Bagher Ghalibaf and US Vice President JD Vance.

Early signals suggest a cautious flexibility from Washington—hinting at phased cooperation and the possible easing of frozen Iranian assets. Yet, its core demands remain firm: dismantling Iran’s nuclear ambitions and ensuring stability in the Strait of Hormuz.

Tehran, on the other hand, insists that any meaningful agreement must include access to its frozen funds and an end to operations against Hezbollah in Lebanon—conditions that Washington has not accepted.

While the dialogue opens a window of possibility, deep fractures persist. Sanctions, regional conflicts, and strategic waterways continue to define the tension beneath the surface.

Should these talks falter, the fragile calm may give way once more to escalation—reminding the world that peace, though desired, remains an unfinished journey.


Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading