الف نیوز شمارہ نمبر : 174 | تاریخ: 9 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
خلیج کے پانیوں پر ایک بار پھر سکوت طاری ہے — مگر یہ سکوت امن کا نہیں، اضطراب کا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی توانائی کی نبض گزرتی ہے، آج پھر بندش کی علامت بن گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو وہ جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ تہران کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی صرف ایک جغرافیہ تک محدود نہیں، بلکہ پورے خطے پر لاگو ہونی چاہیے — ایک ایسا مؤقف جو عالمی سفارت کاری کے لیے ایک نیا امتحان بن کر ابھرا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں، اور اسی تناظر میں لبنان پر وسیع پیمانے پر حملے جاری رکھے گئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ خطے میں کشیدگی کی نئی لہر بھی پیدا ہوئی ہے۔
اسی کشیدہ فضا میں آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت رک گئی — ایک ایسا اقدام جس نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کیا کہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ معیشتوں کی سانسوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے اس صورتحال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق "ہر جگہ” ہونا چاہیے، اور اسی مقصد کے تحت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی جائے گی۔
یہ منظرنامہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا جنگ بندی صرف ایک معاہدہ ہے — یا ایک ایسی امید، جو ہر لمحہ ٹوٹنے کے خطرے میں رہتی ہے؟
Silence Over Hormuz, Echoes of Uncertainty
Across the waters of the Gulf, a tense silence prevails — not of peace, but of uncertainty.
The Strait of Hormuz, a lifeline of global energy supply, has once again come to a halt.
Iran has warned that it may withdraw from the ceasefire agreement if Israel continues its military strikes in Lebanon. According to Iranian sources, the ceasefire is meant to extend across the region — a claim that introduces fresh complexity into an already fragile diplomatic landscape.
Israel, however, has rejected this interpretation, maintaining that Lebanon is not part of the ceasefire deal. Consequently, it has carried out what it describes as its largest coordinated strikes across Lebanese territory, intensifying the conflict.
Amid this escalation, oil tanker movement through Hormuz has stopped, sending shockwaves through global energy markets. Oil and gas prices, which initially dipped after the ceasefire announcement, have once again shown volatility — underscoring how geopolitical tensions ripple through the world economy.
Meanwhile, Shehbaz Sharif emphasized that the ceasefire should apply "everywhere,” including Lebanon, and announced that Pakistan will host talks between the United States and Iran in the coming days.
This unfolding crisis raises a deeper question:
Is a ceasefire merely a temporary pause — or a fragile promise constantly at risk of collapse?




Leave a Reply