25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
آبنائے ہرمز کے دوبارہ بند ہونے کا خدشہ; وجہ اسرائیل کی لبنان پر بمباری!

الف نیوز شمارہ نمبر : 174 | تاریخ: 9 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد


اداریہ

سیّد اکبر زاہد

خلیج کے پانیوں پر ایک بار پھر سکوت طاری ہے — مگر یہ سکوت امن کا نہیں، اضطراب کا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی توانائی کی نبض گزرتی ہے، آج پھر بندش کی علامت بن گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو وہ جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ تہران کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی صرف ایک جغرافیہ تک محدود نہیں، بلکہ پورے خطے پر لاگو ہونی چاہیے — ایک ایسا مؤقف جو عالمی سفارت کاری کے لیے ایک نیا امتحان بن کر ابھرا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیل نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں، اور اسی تناظر میں لبنان پر وسیع پیمانے پر حملے جاری رکھے گئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ خطے میں کشیدگی کی نئی لہر بھی پیدا ہوئی ہے۔

اسی کشیدہ فضا میں آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت رک گئی — ایک ایسا اقدام جس نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کیا کہ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ معیشتوں کی سانسوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے اس صورتحال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق "ہر جگہ” ہونا چاہیے، اور اسی مقصد کے تحت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی جائے گی۔

یہ منظرنامہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا جنگ بندی صرف ایک معاہدہ ہے — یا ایک ایسی امید، جو ہر لمحہ ٹوٹنے کے خطرے میں رہتی ہے؟


Silence Over Hormuz, Echoes of Uncertainty

Across the waters of the Gulf, a tense silence prevails — not of peace, but of uncertainty.
The Strait of Hormuz, a lifeline of global energy supply, has once again come to a halt.

Iran has warned that it may withdraw from the ceasefire agreement if Israel continues its military strikes in Lebanon. According to Iranian sources, the ceasefire is meant to extend across the region — a claim that introduces fresh complexity into an already fragile diplomatic landscape.

Israel, however, has rejected this interpretation, maintaining that Lebanon is not part of the ceasefire deal. Consequently, it has carried out what it describes as its largest coordinated strikes across Lebanese territory, intensifying the conflict.

Amid this escalation, oil tanker movement through Hormuz has stopped, sending shockwaves through global energy markets. Oil and gas prices, which initially dipped after the ceasefire announcement, have once again shown volatility — underscoring how geopolitical tensions ripple through the world economy.

Meanwhile, Shehbaz Sharif emphasized that the ceasefire should apply "everywhere,” including Lebanon, and announced that Pakistan will host talks between the United States and Iran in the coming days.

This unfolding crisis raises a deeper question:
Is a ceasefire merely a temporary pause — or a fragile promise constantly at risk of collapse?


Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading