الف نیوز شمارہ نمبر: 168|تاریخ: 2 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد



جب آسمان پر اڑتے ہوئے میزائلوں کی لکیرں زمین کے مقدر لکھنے لگیں، تو صرف شہر ہی نہیں جلتے—اعتماد بھی جلتا ہے، اور سچ بھی راکھ ہو جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس سلگتی ہوئی فضا میں، جہاں ہر رات ایک نئی دہشہ کی کہانی رقم کرتی ہے، وہاں دفاعی نظاموں کی چمک بھی اب مدھم پڑتی محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف طاقت کے دعوے ہیں، دوسری طرف وہ حقیقت جو زمین پر گرتے ہوئے شعلوں کے ساتھ خود کو منوانے پر مجبور ہے۔
ایسے ہی ماحول کی تصویر کشی کرتے ہوئے فیض احمد فیض کی صدا گونجتی ہے:
نثار میں تری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
یہ وہ فضا ہے جہاں خوف صرف جسموں کو نہیں، سچائی کو بھی جھکا دیتا ہے۔
آج جب دفاعی نظام اپنی اصل حدود سے آگے استعمال کیے جا رہے ہیں، تو یہ محض ایک عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک اضطراری کیفیت کا اظہار ہے۔ جب خطرہ منصوبہ بندی سے بڑا ہو جائے، تو مضبوط قلعے بھی دراڑوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔
لیکن اصل سوال ہتھیاروں کا نہیں—سچ کا ہے۔
جب معلومات پر پہرے بٹھا دیے جائیں، جب نقصانات کو پردوں میں چھپا دیا جائے، تو حقیقت ایک سرگوشی بن جاتی ہے، اور سرگوشیاں کبھی تاریخ نہیں بدل سکتیں۔
ایسے میں حبیب جالب کی بغاوت پھر سر اٹھاتی ہے:
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت کا توازن جب بگڑتا ہے، تو روشنی بھی چند ہاتھوں میں قید ہو جاتی ہے، اور باقی دنیا اندھیرے میں چھوڑ دی جاتی ہے۔
مگر ہر اندھیرے میں ایک امکان بھی چھپا ہوتا ہے—سچ بولنے کا، سوال اٹھانے کا، اور روشنی کو واپس لانے کا۔
اسی امید کو احمد فراز یوں بیان کرتے ہیں:
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
یہ دعوت ہے—خاموشی توڑنے کی، خوف کے حصار سے نکلنے کی۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام سب جانتی ہے۔ چاہے پردے کتنے ہی دبیز کیوں نہ ہوں، سچ کی روشنی کہیں نہ کہیں سے جھلک ہی جاتی ہے۔
میر تقی میر کے لفظوں میں:
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
یہی وہ شعور ہے جو تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔
آخر میں، یہ اداریہ ہمیں ایک سادہ مگر گہری حقیقت کی طرف لے جاتا ہے:
دفاع صرف میزائلوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اعتماد، شفافیت اور سچائی سے ہوتا ہے۔
اور اگر سچ کو دبایا جائے، تو وہ خاموش نہیں رہتا—وہ ایک دن گونج بن کر لوٹتا ہے:
سچ کی صدا کو دبایا گیا تو کیا ہوگا
ہر ایک لفظ قیامت کا استعارہ ہوگا
✍
Editorial
By: SYED AKBAR ZAHID
“When the Sky Is No Longer Safe — Defense, Truth, and the Politics of Fear”**
Beneath a sky streaked with fire, where missiles carve destinies into the night, it is not only cities that burn—trust burns with them, and truth turns to ash.
Across the Middle East, a region long familiar with conflict yet never immune to its cost, a deeper crisis is unfolding. What appears on the surface as a test of military capability is, in essence, a far more profound trial—of transparency, credibility, and moral courage.
Israel’s reliance on lower-tier air defense systems, reportedly not designed for the scale or type of incoming threats, is not merely a tactical adjustment. It is a reflection of strain—of a system stretched beyond its intended limits, of a reality that no longer aligns with the narrative of invincibility.
But beyond the mechanics of interception lies a more unsettling dimension: the management of truth.
When information is filtered, when losses are obscured, when silence replaces clarity, a nation does not merely defend itself—it begins to distance itself from its own people. And in that distance, something vital is lost: trust.
History has shown us that the strength of a nation is not measured solely by the weapons it deploys, but by the honesty it upholds. A missile may be intercepted, but a concealed truth finds its way back—with greater force, greater consequence.
In such moments, fear becomes a political tool, and uncertainty a quiet weapon. Citizens are left to navigate not only the threat above them, but the ambiguity around them.
And yet, even in this shadow, there remains a fragile but enduring hope—that truth, however suppressed, cannot be extinguished forever.
Because when voices are silenced, questions do not disappear. They gather, they grow, and one day, they return—not as whispers, but as a reckoning.
For in the end, no defense system is complete without truth.
And no sky can remain secure if it is built upon silence.




Leave a Reply