نیا سال آتا ہے تو کیلنڈر کی ایک ورق الٹتی ہے، تاریخ کی سیاہی تازہ ہو جاتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے دلوں کی تحریر بھی نئی ہو جاتی ہے؟ دنیا میں بے شمار مذاہب ہیں، ان گنت فرقے، لاتعداد زبانیں اور الگ الگ تہذیبی تقویمیں۔ کہیں تمل نیا سال منایا جاتا ہے، کہیں اسلامی سالِ نو کا آغاز ہوتا ہے، کہیں عیسوی سال کی ساعتِ اول پر گھنٹیاں بجتی ہیں۔ ہر قوم اپنے اپنے انداز میں خوشی مناتی ہے—اور یہ تنوع انسانیت کی خوبصورتی ہے، اس کا فخر۔
مگر اس تنوع کے بیچ ایک سادہ، تلخ حقیقت سب پر یکساں لاگو ہوتی ہے: ہر گزرتے سال کے ساتھ ہماری عمر کا ایک سال کم ہو جاتا ہے۔ وقت کسی مذہب، کسی زبان، کسی جھنڈے کی رعایت نہیں کرتا۔ وہ خاموشی سے، مسلسل، ہمیں ہمارے انجام کی طرف لے جاتا ہے۔
تو ذرا رک کر پوچھیے:
گزرا ہوا سال ہم سے کیا لے گیا—اور ہم نے اس دنیا کو کیا دیا؟
کیا ہمارے الفاظ نے کسی کے زخم پر مرہم رکھا؟
کیا ہمارے فیصلوں نے کسی کی زندگی آسان کی؟
کیا ہماری خاموشی کسی ظلم کے سامنے گواہی بنی یا مجرمانہ مصلحت؟
کیا ہم نے اختلاف میں شرافت اور اتفاق میں دیانت نبھائی؟
نیا سال محض آتش بازی نہیں، محض تمناؤں کی فہرست نہیں، محض وعدوں کی مشق نہیں۔ نیا سال ایک احتساب ہے—اپنے رویّوں کا، اپنے تعصبات کا، اپنی ترجیحات کا۔ اگر ہم نے ایک اور سال بھی نفرت کو روایت، ناانصافی کو معمول، اور بے حسی کو حکمت سمجھ کر گزار دیا تو کیلنڈر کی تبدیلی ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
دنیا کو اس وقت کسی نئے نعرے کی نہیں، نئے کردار کی ضرورت ہے۔ ایسے کردار جو مذہب کو انسانیت کے خلاف ہتھیار نہ بنائیں، زبان کو نفرت کی گولی نہ بنائیں، اور فرقے کو دیوار نہیں—پل بنائیں۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اختلافِ رائے تہذیب ہے، اختلافِ انسانیت نہیں۔
نیا سال تب بامعنی ہوگا جب ہم اپنے دائرے سے باہر دیکھیں گے—کمزور کی طرف، خاموش کی طرف، پسے ہوئے کی طرف۔ جب ہم یہ سمجھیں گے کہ نیکی کا پیمانہ ہماری شناخت نہیں، ہمارا عمل ہے۔ اور یہ عمل روزمرہ میں ظاہر ہوتا ہے: سچ بولنے میں، امانت لوٹانے میں، انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے میں، اور خطا پر معافی مانگنے میں۔
آئیے، اس نئے سال میں ایک سادہ عہد کریں:
ہم کیلنڈر نہیں، کردار بدلیں گے۔
ہم تاریخ نہیں، حال سنواریں گے۔
ہم خوشیاں نہیں، ذمہ داریاں بڑھائیں گے۔
کیونکہ آخرکار، جب وقت ہم سے پوچھے گا کہ تم نے کیا کیا—تو ہمارے پاس تاریخ نہیں، انسانیت کا جواب ہونا چاہیے۔



Leave a Reply