25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu

نیا سال آتا ہے تو کیلنڈر کی ایک ورق الٹتی ہے، تاریخ کی سیاہی تازہ ہو جاتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے دلوں کی تحریر بھی نئی ہو جاتی ہے؟ دنیا میں بے شمار مذاہب ہیں، ان گنت فرقے، لاتعداد زبانیں اور الگ الگ تہذیبی تقویمیں۔ کہیں تمل نیا سال منایا جاتا ہے، کہیں اسلامی سالِ نو کا آغاز ہوتا ہے، کہیں عیسوی سال کی ساعتِ اول پر گھنٹیاں بجتی ہیں۔ ہر قوم اپنے اپنے انداز میں خوشی مناتی ہے—اور یہ تنوع انسانیت کی خوبصورتی ہے، اس کا فخر۔

مگر اس تنوع کے بیچ ایک سادہ، تلخ حقیقت سب پر یکساں لاگو ہوتی ہے: ہر گزرتے سال کے ساتھ ہماری عمر کا ایک سال کم ہو جاتا ہے۔ وقت کسی مذہب، کسی زبان، کسی جھنڈے کی رعایت نہیں کرتا۔ وہ خاموشی سے، مسلسل، ہمیں ہمارے انجام کی طرف لے جاتا ہے۔

تو ذرا رک کر پوچھیے:
گزرا ہوا سال ہم سے کیا لے گیا—اور ہم نے اس دنیا کو کیا دیا؟

کیا ہمارے الفاظ نے کسی کے زخم پر مرہم رکھا؟
کیا ہمارے فیصلوں نے کسی کی زندگی آسان کی؟
کیا ہماری خاموشی کسی ظلم کے سامنے گواہی بنی یا مجرمانہ مصلحت؟
کیا ہم نے اختلاف میں شرافت اور اتفاق میں دیانت نبھائی؟

نیا سال محض آتش بازی نہیں، محض تمناؤں کی فہرست نہیں، محض وعدوں کی مشق نہیں۔ نیا سال ایک احتساب ہے—اپنے رویّوں کا، اپنے تعصبات کا، اپنی ترجیحات کا۔ اگر ہم نے ایک اور سال بھی نفرت کو روایت، ناانصافی کو معمول، اور بے حسی کو حکمت سمجھ کر گزار دیا تو کیلنڈر کی تبدیلی ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

دنیا کو اس وقت کسی نئے نعرے کی نہیں، نئے کردار کی ضرورت ہے۔ ایسے کردار جو مذہب کو انسانیت کے خلاف ہتھیار نہ بنائیں، زبان کو نفرت کی گولی نہ بنائیں، اور فرقے کو دیوار نہیں—پل بنائیں۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اختلافِ رائے تہذیب ہے، اختلافِ انسانیت نہیں۔

نیا سال تب بامعنی ہوگا جب ہم اپنے دائرے سے باہر دیکھیں گے—کمزور کی طرف، خاموش کی طرف، پسے ہوئے کی طرف۔ جب ہم یہ سمجھیں گے کہ نیکی کا پیمانہ ہماری شناخت نہیں، ہمارا عمل ہے۔ اور یہ عمل روزمرہ میں ظاہر ہوتا ہے: سچ بولنے میں، امانت لوٹانے میں، انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے میں، اور خطا پر معافی مانگنے میں۔

آئیے، اس نئے سال میں ایک سادہ عہد کریں:
ہم کیلنڈر نہیں، کردار بدلیں گے۔
ہم تاریخ نہیں، حال سنواریں گے۔
ہم خوشیاں نہیں، ذمہ داریاں بڑھائیں گے۔

کیونکہ آخرکار، جب وقت ہم سے پوچھے گا کہ تم نے کیا کیا—تو ہمارے پاس تاریخ نہیں، انسانیت کا جواب ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
دسمبر 2025
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading