25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
بدلتے بیانات، لرزتی دنیا — ٹرمپ، ایران اور امن کی غیر یقینی سیاست

الف نیوز شمارہ نمبر: 219|تاریخ: 25 مئی 2026 | پیر

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

بدلتے بیانات، لرزتی دنیا — ٹرمپ، ایران اور امن کی غیر یقینی سیاست

دنیا اس وقت ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طاقتور ملک کے صدر کے چند گھنٹوں کے اندر بدلتے ہوئے بیانات پوری انسانیت کے مستقبل کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔ امریکی صدر Donald Trump نے چند گھنٹے قبل اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات “آخری مرحلے” میں ہیں اور بہت جلد ایک حتمی معاہدے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ اس بیان سے دنیا بھر میں امید کی ایک کرن جاگی تھی کہ شاید مشرقِ وسطیٰ ایک نئی جنگ کے دہانے سے واپس آ جائے۔

لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے اپنے لہجے اور پالیسی دونوں میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں جلد بازی نہیں کی جائے گی، ایران سے بات چیت روک دی جائے گی، اور آبنائے ہرمز پر امریکی دباؤ برقرار رہے گا۔ یہ متضاد بیانات نہ صرف سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کرتے ہیں بلکہ عالمی معیشت، امن، تیل کی منڈیوں اور کروڑوں انسانوں کے ذہنی سکون کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

ایران پہلے ہی امریکہ کی نیتوں پر شکوک رکھتا ہے۔ تہران کو خدشہ ہے کہ مذاکرات کی میز کے پیچھے کہیں جنگی حکمتِ عملی تیار نہ کی جا رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بدلتا ہوا امریکی بیان اعتماد کے پل کو مزید کمزور کر دیتا ہے۔ امن مذاکرات صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ اعتماد، تسلسل اور سیاسی سنجیدگی سے کامیاب ہوتے ہیں۔ جب عالمی طاقتوں کے فیصلے لمحہ بہ لمحہ بدلنے لگیں تو سفارت کاری ایک غیر یقینی کھیل بن جاتی ہے۔

دنیا آج صرف ایران اور امریکہ کے درمیان ایک معاہدہ نہیں چاہتی، بلکہ وہ ایک ایسا ماحول چاہتی ہے جہاں الفاظ بموں سے زیادہ طاقتور ہوں، جہاں دھمکیوں کے بجائے مکالمہ ہو، اور جہاں عالمی قیادت جذباتی ردِ عمل کے بجائے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرے۔

اگر طاقتور ممالک اپنی پالیسیوں کو ٹویٹس، فوری ردعمل اور سیاسی دباؤ کے تابع کر دیں تو دنیا کا امن ہمیشہ خطرے میں رہے گا۔ مشرقِ وسطیٰ مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لبنان، غزہ، شام اور ایران پہلے ہی مسلسل کشیدگی اور خونریزی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں امریکی قیادت کی غیر مستقل پالیسی پوری دنیا کے لئے اضطراب اور بے یقینی کا باعث بن رہی ہے۔

تاریخ یہ یاد رکھتی ہے کہ جنگیں صرف میزائلوں سے نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ بیانات سے بھی بھڑکتی ہیں۔ اور امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔


Editorial

By: SYED AKBAR ZAHID

Shifting Statements, A Trembling World — Trump, Iran, and the Fragility of Peace

The world today stands at a dangerous crossroads where the changing statements of a powerful leader within a matter of hours are shaping the anxieties of humanity. Donald Trump had earlier declared that negotiations with Iran were in their “final stages” and that a decisive agreement could soon be announced. For a brief moment, the world breathed with cautious hope, believing that the Middle East might step back from the edge of another devastating conflict.

Yet only hours later, Trump altered both his tone and direction, stating that negotiators should “not rush into a deal,” while maintaining pressure in the Strait of Hormuz and leaving the possibility of confrontation hanging in the air. Such contradictory signals are not mere political statements; they send shockwaves through global diplomacy, financial markets, energy security, and the emotional stability of millions across the world.

Iran already remains deeply suspicious of American intentions. In Tehran, many fear that diplomacy may simply be a pause before renewed military pressure. Every sudden shift in Washington’s position weakens the fragile bridge of trust required for meaningful negotiations. Peace processes do not survive on military power alone; they depend on consistency, credibility, and responsible leadership.

The world today is not merely waiting for an agreement between Iran and the United States. It is longing for a political climate where dialogue becomes stronger than threats, where diplomacy replaces intimidation, and where global leadership demonstrates maturity rather than impulsive reactions.

When the policies of major powers begin changing by the hour, international diplomacy turns into a theatre of uncertainty. The Middle East cannot endure another war. Lebanon, Gaza, Syria, and Iran have already suffered enough from cycles of violence and instability. In such a fragile atmosphere, inconsistent messaging from Washington only deepens global fear and confusion.

History reminds us that wars are ignited not only by missiles, but also by reckless words. And peace is sustained not merely by agreements, but by trust.

Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
مئی 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading