الف نیوز شمارہ نمبر:210|تاریخ: 16 مئی 2026| ہفتہ
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
کولکاتا کے علاقے راجہ بازار میں جمعہ کی نماز کے دوران اُس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب سڑک پر نماز ادا کرنے کے معاملے پر تنازع سامنے آیا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی افراد نے برسوں سے جاری روایت کے مطابق سڑک کے ایک حصے میں نماز ادا کرنے کی کوشش کی، تاہم انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد پولیس اور نمازیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ بعد ازاں حالات قابو سے باہر ہونے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور لاٹھی چارج کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ راجہ بازار جیسے گنجان علاقوں میں مسجدوں میں جگہ کی شدید قلت ہے، جس کے باعث جمعہ کے دن ہزاروں افراد کو مجبوری میں سڑک کے ایک کنارے نماز ادا کرنی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق یہ روایت نئی نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور عام طور پر ٹریفک کے نظم کو مدِنظر رکھتے ہوئے محدود جگہ میں نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔
اس واقعہ کے بعد سیاسی بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ریاستی حکومت کے بعض نمائندوں نے واضح کیا ہے کہ عوامی سڑکوں پر مذہبی اجتماعات یا راستہ بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر بھارت جیسے جمہوری ملک میں مختلف مذاہب کے تہوار اور جلوس — جیسے ونایاگا جلوس، کاؤڑی یاترا، ہولی، دسہرا، دیوالی اور گربا — برسوں سے سڑکوں پر منعقد ہوتے آئے ہیں، تو پھر صرف مسلمانوں کی نمازِ جمعہ پر سختی کیوں کی جارہی ہے؟
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق اگر ہو تو وہ سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ کسی ایک مذہبی طبقے کو نشانہ بنانے کا تاثر نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ جمہوری اقدار پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ بھارت کی تکثیری شناخت اسی وقت مضبوط رہ سکتی ہے جب تمام شہریوں کو اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے کے لیے مساوی احترام اور سہولت حاصل ہو۔
Kolkata Rajabazar Dispute Over Friday Prayers
Tension gripped Kolkata’s Rajabazar area during Friday prayers after a dispute erupted over offering Namaz on a public road. According to reports, worshippers attempted to continue a long-standing local practice of praying on one side of the road due to overcrowded mosques, but restrictions imposed by the administration led to confrontation and heavy police deployment. Reports also indicated that police resorted to a lathi-charge as the situation escalated.
Residents argue that in densely populated areas such as Rajabazar, mosques often lack sufficient space to accommodate large Friday congregations. As a result, worshippers have for years offered prayers on a limited section of nearby roads while attempting to minimize disruption to traffic and public movement.
The incident has triggered a wider political and social debate. Government representatives have reiterated that public roads cannot be blocked for religious gatherings. However, critics question why restrictions appear to focus mainly on Muslim prayers when many other religious and cultural events in India — including Vinayaga processions, Kanwar Yatras, Holi celebrations, Dussehra, Diwali festivities, and Garba gatherings — have traditionally occupied public streets for decades.
Observers say that if laws regarding public spaces are to be enforced, they should apply equally to all communities. Selective enforcement risks deepening social divisions and undermining the democratic and pluralistic values that form the foundation of India’s identity.








Leave a Reply