الف نیوز شمارہ نمبر: 198 | تاریخ: 3 مئی 2026 | اتوار
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
جمہوریت محض ایک نظامِ حکومت نہیں، بلکہ ایک عہد ہے — عوام اور اقتدار کے درمیان ایک مقدس معاہدہ، جس میں اختیار کی اصل قوت عوام کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور حکمران اس امانت کے نگہبان ہوتے ہیں۔ مگر جب یہی امانت سیاست کے بازار میں نیلام ہونے لگے، جب اختیار خدمت کے بجائے تسلط کا ذریعہ بن جائے، اور جب انتخابی عمل شفافیت کے بجائے شبہات کی دھند میں لپٹ جائے — تو جمہوریت کا چہرہ دھندلا جاتا ہے۔
ہندوستان کی سیاسی فضا میں آج جو اضطراب محسوس کیا جا رہا ہے، وہ محض اختلافِ رائے نہیں بلکہ ایک گہری تشویش کا اظہار ہے۔ یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا انتخابات واقعی عوامی امنگوں کی ترجمانی کر رہے ہیں، یا پھر وہ طاقت، سرمایہ اور ریاستی وسائل کے دباؤ میں اپنی اصل روح کھو چکے ہیں؟ جب سرکاری ذرائع پر جانبداری کے سائے گہرے ہونے لگیں، جب میڈیا کا ایک حصہ سوال کرنے کے بجائے قصیدہ خوانی میں مصروف ہو جائے، اور جب اختلاف کو غداری کے مترادف ٹھہرایا جانے لگے — تو یہ سب نشانیاں کسی صحت مند جمہوریت کی نہیں ہوتیں۔
نفرت کی سیاست، وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر وہ قوموں کے دلوں میں دراڑیں بھی ڈالتی ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو تقسیم کو ہوا دے، وہ کبھی پائیدار اتحاد کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اختلاف کو برداشت کرتی ہیں، تنوع کو قبول کرتی ہیں، اور انصاف کو اپنی بنیاد بناتی ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طاقت کا توازن جب حد سے زیادہ ایک طرف جھک جائے، اور مالی وسائل کا ارتکاز غیر معمولی ہو جائے، تو جمہوری مقابلہ غیر مساوی ہو جاتا ہے۔ ایسے میں عوامی آواز کمزور پڑنے لگتی ہے، اور انتخابی عمل محض ایک رسمی کارروائی بننے کا خطرہ مول لیتا ہے۔
مگر ہر اندھیری رات کے بعد ایک سحر بھی ہوتی ہے۔ عوامی شعور کبھی مکمل طور پر خاموش نہیں ہوتا؛ وہ دب تو سکتا ہے، مگر مٹ نہیں سکتا۔ جب سوالات بڑھتے ہیں، جب خاموشی بوجھ بننے لگتی ہے، اور جب انصاف کی طلب اجتماعی آواز میں ڈھل جاتی ہے — تو تبدیلی کی پہلی کرن جنم لیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت کو اس کی اصل روح کے ساتھ بحال رکھا جائے: آزاد و منصفانہ انتخابات، غیر جانب دار ادارے، اور ایک ایسا میڈیا جو سوال کرنے کی جرات رکھتا ہو۔ یہی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط اور باوقار قوم کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
آخرکار، اقتدار کی اصل طاقت نہ دولت میں ہوتی ہے، نہ جبر میں — بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ اور جب یہ اعتماد متزلزل ہو جائے، تو ہر مضبوط دکھائی دینے والا قلعہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
وقت گواہ ہے کہ سچائی، چاہے کتنی ہی دب جائے، اپنی راہ خود بنا لیتی ہے۔ اور جب وہ لمحہ آتا ہے، تو تاریخ ایک نئی داستان لکھتی ہے — امید، انصاف اور انسانی وقار کی داستان۔








Leave a Reply