25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
حقِ تعلیم: وعدہ، قانون اور حقیقت

سیّد اکبر زاہد

Image
Image

حقِ تعلیم کا آئینی درجہ

تعلیم صرف علم کا حصول نہیں، بلکہ ایک ایسا چراغ ہے جو انسان کی تقدیر کو روشن کرتا ہے۔ ہندوستان نے جب حقِ تعلیم کو آئینی درجہ دیا تو گویا اس نے اپنے ہر بچے سے یہ عہد کیا کہ علم اس کا بنیادی حق ہے، نہ کہ کسی خوش نصیب طبقے کی میراث۔

سن 2002 میں آئین میں آرٹیکل 21-A کا اضافہ کیا گیا، جس کے تحت 6 سے 14 سال کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں Right to Education Act 2009 نافذ ہوا، جو یکم اپریل 2010 سے عملی طور پر نافذ العمل ہے۔ یہ قانون صرف تعلیم کی فراہمی کا وعدہ نہیں کرتا بلکہ اس کی معیار، مساوات اور رسائی کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

اس قانون کی روح میں چند بنیادی اصول پوشیدہ ہیں:

  • ہر بچے کو اپنے محلے کے اسکول میں مفت اور لازمی ابتدائی تعلیم کا حق حاصل ہے
  • کسی بھی بچے سے فیس یا اخراجات وصول نہیں کیے جا سکتے جو اس کی تعلیم میں رکاوٹ بنیں
  • حکومت اور مقامی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر بچے کا داخلہ، حاضری اور تعلیم کی تکمیل یقینی بنائیں
  • ایسے بچوں کو بھی عمر کے مطابق جماعت میں داخلہ دیا جائے جو پہلے اسکول سے باہر تھے
  • اساتذہ کی مناسب تعداد (Pupil-Teacher Ratio)، اسکول کی عمارت، اور تعلیمی معیار کے لیے واضح اصول مقرر کیے گئے ہیں
  • جسمانی سزا، ذہنی اذیت، کیپٹیشن فیس، اور بغیر منظوری اسکول چلانے پر پابندی عائد کی گئی ہے
  • تعلیم کو بچوں کے لیے خوف سے پاک، تخلیقی اور ہمہ جہت ترقی کا ذریعہ بنانے پر زور دیا گیا ہے

یہ سب نکات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست نے تعلیم کو صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک حق پر مبنی نظام (rights-based framework) کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

مگر حقیقت کا آئینہ کچھ اور کہانی سناتا ہے۔

حال ہی میں Supreme Court of India نے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے مرکز، ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز سے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس Surya Kant اور جسٹس Joymalya Bagchi کی بنچ نے اس بات کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا کہ آخر یہ قانون اپنی مکمل روح کے ساتھ نافذ کیوں نہیں ہو سکا۔

یہ پیش رفت ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے:
کیا آئینی وعدہ زمینی حقیقت میں تبدیل ہو سکا ہے؟

آج بھی بے شمار بچے غربت، سماجی عدم مساوات اور نظامی کمزوریوں کے باعث تعلیم سے محروم ہیں۔ اسکول موجود ہیں مگر معیار نہیں، قانون موجود ہے مگر نفاذ کمزور، خواب موجود ہیں مگر وسائل ناکافی۔

الف نیوز کے زاویۂ نظر سے یہ معاملہ محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی ہے۔
تعلیم کا حق دینا کافی نہیں، اسے ممکن بنانا اصل ذمہ داری ہے۔


Education is a Right, Not a Privilege

By: SYED AKBAR ZAHID

Education is not merely an institutional function—it is a moral promise a nation makes to its children. In India, this promise took a historic turn when Article 21-A was inserted into the Constitution in 2002, declaring free and compulsory education for children aged 6 to 14 as a Fundamental Right.

This vision was operationalized through the Right to Education Act, 2009, implemented from April 1, 2010. The Act does not merely guarantee access—it aspires to ensure equity, quality, and dignity in elementary education.

At its core, the RTE framework establishes:

  • Every child’s right to free and compulsory education in a neighbourhood school
  • “Free” education ensuring no financial barriers to learning
  • “Compulsory” education placing responsibility on governments to ensure admission, attendance, and completion
  • Inclusion of out-of-school children into age-appropriate classes
  • Defined norms for infrastructure, teacher-student ratios, and school functioning
  • Mandatory appointment of qualified teachers
  • Prohibition of physical punishment, mental harassment, capitation fees, and unrecognized schools
  • A child-centered curriculum aligned with constitutional values, ensuring holistic and fear-free development

This reflects India’s shift toward a rights-based educational framework, legally binding both Central and State Governments to uphold this fundamental entitlement.

Yet, the distance between law and lived reality remains significant.

On April 13, 2026, the Supreme Court of India revisited this gap. A bench led by Chief Justice Surya Kant and Justice Joymalya Bagchi sought responses from the Centre, States, and Union Territories regarding the incomplete implementation of the RTE Act.

This judicial intervention is more than procedural—it is reflective.

Has the constitutional promise of education truly reached every child?

Despite a robust legal framework, millions of children remain outside classrooms, constrained by poverty, inequality, and systemic inefficiencies. Infrastructure exists, but quality falters. Policies exist, but implementation lags.

From the lens of Alif News, this is not just a governance issue—it is a human responsibility.

A law can mandate education, but only a society can ensure its meaning.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading