رپورٹ: سیّد اکبر زاہد|مدیر: الف نیوز
وقارِ روایت، پیغامِ امن — امیر محل میں ہند۔ایران ہم آہنگی کی بازگشت
چنئی کے تاریخی اور روحانی منظرنامے میں آج ایک ایسا لمحہ رقم ہوا جس میں روایت، تہذیب اور سفارتی شائستگی ایک ہی محفل میں سمٹ آئے۔ نواب آف آرکوٹ، نواب محمد عبدالعلی نے اپنے آبائی و سرکاری محل امیر محل میں ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس باوقار نشست میں نوابزادہ محمد آصف علی، اہلِ خاندان، معزز مہمان اور قریبی رفقاء شریک ہوئے، جہاں امیر محل کی روایتی مہمان نوازی اور کشادہ دلی ایک بار پھر نمایاں ہوئی۔
خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے اس امر پر زور دیا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات محض سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ تہذیبی، تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے ثقافتی، تعلیمی اور معاشی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عالمی امن کے لیے مشترکہ کوششوں کی اپیل کی۔
اپنے پُراثر خطاب میں نواب محمد عبدالعلی نے ہندوستان کو "وحدت میں کثرت” کی ایک زندہ مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ثقافتوں، زبانوں اور قومیتوں کے باوجود یہاں ہم آہنگی کا تسلسل دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے۔


تصویر و خبر کا ماخذ:
یہ خبر اور اس کے ساتھ شائع کی گئی تمام تصاویر نواب آف آرکوٹ، نواب محمد عبدالعلی صاحب کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے ماخوذ ہیں۔ الف نیوز ان کی فراہم کردہ معلومات اور بصری مواد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
نوابزادہ محمد آصف علی نے کہا کہ امن کا حقیقی راستہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور احترام دینے میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نسل، ذات اور فرق سے بالاتر ہو کر انسانی وقار کو مقدم رکھنا ہی ایک منصفانہ اور ہمدرد دنیا کی بنیاد ہے۔
بعد ازاں، ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے ٹرپلکین میں واقع تاریخی والاجہ بڑی مسجد کا دورہ کیا، جو نواب محمد علی والاجہ کی تعمیر کردہ 225 سالہ قدیم مسجد ہے، جہاں انہوں نے نمازِ مغرب ادا کی اور اتحاد و ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعا کی۔
یہ ملاقات نہ صرف ہند۔ایران دوستی کی مضبوطی کا اظہار تھی بلکہ اس عزم کی بھی عکاس رہی کہ مکالمہ، باہمی احترام اور ثقافتی فہم ہی ایک پُرامن عالمی مستقبل کی بنیاد ہیں۔
Alif News English
In a moment rich with heritage and purpose, Chennai witnessed a distinguished gathering at the historic Amir Mahal, where the Prince of Arcot, Nawab Mohammed Abdul Ali, hosted Dr. Abdul Majid Hakeem Ilahi, representative of the Supreme Leader of Iran.
The meeting, attended by Nawabzada Mohammed Asif Ali, members of the royal household and distinguished guests, reflected the timeless elegance and inclusive spirit of the Arcot legacy.
Addressing the gathering, Dr. Ilahi emphasized that Indo-Iranian ties transcend diplomacy, rooted deeply in shared civilization, history, and cultural affinity. He called for renewed momentum in cultural, educational, and economic cooperation, while underlining the collective responsibility of nations to advance global peace.
The Prince of Arcot described India as a living embodiment of unity in diversity, noting that its harmony across cultures, languages, and communities offers a powerful model for the world.
Nawabzada Mohammed Asif Ali highlighted that the path to peace lies in mutual understanding and respect. He stressed the importance of learning from each other’s traditions and upholding human dignity beyond divisions of race and caste.

تصویر و خبر کا ماخذ:
یہ خبر اور اس کے ساتھ شائع کی گئی تمام تصاویر نواب آف آرکوٹ، نواب محمد عبدالعلی صاحب کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے ماخوذ ہیں۔ الف نیوز ان کی فراہم کردہ معلومات اور بصری مواد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
Later, Dr. Ilahi visited the historic Wallajah Big Mosque in Triplicane, built over two centuries ago by Nawab Mohammed Ali Wallajah, where he offered Maghrib prayers and spoke about unity, inclusiveness, and harmony.

The engagement concluded on a note of warmth and shared vision—reaffirming the enduring friendship between India and Iran, and a collective resolve to work towards a more peaceful and harmonious global future.





Leave a Reply