ایٹمی توانائی سے سفارتی حرارت تک
نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں جب بھارت کے وزیر اعظم Narendra Modi تھا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم Mark Carney نے مصافحہ کیا تو یہ محض دو رہنماؤں کی ملاقات نہ تھی — یہ ایک سرد پڑتے رشتے کی واپسی، ایک منجمد اعتماد کی پگھلتی ہوئی برف، اور عالمی سیاست میں نئی صف بندی کا اشارہ تھا۔
دونوں ممالک نے دس سالہ سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے پر اتفاق کیا، جس کے تحت کینیڈا بھارت کو طویل مدتی یورینیم سپلائی فراہم کرے گا اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز سمیت جدید ایٹمی ٹیکنالوجی میں اشتراک ہوگا۔
وزیر اعظم مودی نے اسے “ٹیکنالوجی اور اختراع میں فطری شراکت داری” قرار دیا، جب کہ کارنی نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں جتنا سفارتی رابطہ ہوا ہے، وہ گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ ہے۔
پس منظر:
یہ وہی تعلقات ہیں جو 2023 میں سکھ رہنما Hardeep Singh Nijjar کے قتل کے بعد شدید بحران کا شکار ہو گئے تھے۔ اس وقت کے کینیڈین وزیر اعظم Justin Trudeau نے بھارت پر سنگین الزامات عائد کیے تھے، جسے نئی دہلی نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ سفارت کار نکالے گئے، ویزا خدمات معطل ہوئیں، اور دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری بڑھتی گئی۔
لیکن اب منظر بدل رہا ہے۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ Anita Anand نے دہلی میں واضح کیا کہ “پیش رفت کے لیے سفارتی گفتگو ناگزیر ہے۔”
توانائی، تجارت اور عالمی سیاست
معاہدہ صرف ایٹمی توانائی تک محدود نہیں۔ دفاع، خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور تنقیدی معدنیات جیسے شعبے بھی اس میں شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے 50 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کا ہدف مقرر کیا ہے اور 2026 کے اختتام تک جامع اقتصادی شراکت داری طے کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کی تجارتی پالیسیوں اور محصولات نے کئی ممالک کو نئے تجارتی راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کینیڈا بھی اپنی تجارت کو متنوع بنانے کی حکمت عملی پر گامزن ہے، جبکہ بھارت روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کینیڈا میں بھارتی نژاد کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے۔ یہی برادری دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی اور معاشی پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق نصف سے زیادہ کینیڈین شہری اس وقت تعلقات کی بحالی کو درست قدم سمجھتے ہیں۔
یہ فیصلہ محض سیاسی نہیں، سماجی اور معاشی بھی ہے۔
سفارت کاری: جذبات نہیں، مفاد کی شطرنج
عالمی سیاست میں مستقل دشمن یا مستقل دوست نہیں ہوتے — مستقل مفادات ہوتے ہیں۔
بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کی بحالی اس حقیقت کی تازہ مثال ہے۔
یہ معاہدہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سفارت کاری محض ردِعمل نہیں، حکمتِ عملی کا نام ہے۔ اختلافات کے سائے اگرچہ ابھی مکمل طور پر نہیں چھٹے، لیکن مکالمے کی شمع روشن ہو چکی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ماضی میں کیا ہوا؛
اصل سوال یہ ہے کہ مستقبل کس سمت لے جایا جا رہا ہے۔اگر توانائی کا اشتراک اعتماد میں بدل جائے اور تجارت تعاون میں، تو یہ معاہدہ صرف نیوکلیئر ایندھن کا نہیں — بلکہ باہمی احترام کا ایندھن ثابت ہو سکتا ہے۔





Leave a Reply