🗞️ عالمی خبر
کاراکاس کی لرزتی رات — امریکی حملوں کے بعد صدرِ وینیزویلا کی گرفتاری کا دعویٰ


کاراکاس / واشنگٹن:
لاطینی امریکہ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔ امریکہ کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ وینیزویلا میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق اس کارروائی کی منظوری چند روز قبل دی جا چکی تھی اور یہ مشن فوج کے خصوصی دستے نے انجام دیا، جبکہ خفیہ ادارے کی نگرانی میں صدر مادورو کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی۔ کارروائی کے دوران دارالحکومت کاراکاس اور دیگر علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے، متعدد عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی اور فضا دھوئیں سے بھر گئی۔
وینیزویلا کی حکومت نے ان حملوں کو مسلح جارحیت قرار دیتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔ وینیزویلا کے وزیرِ خارجہ کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی قانون اور قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ادھر وینیزویلا کی نائب صدر نے سرکاری نشریات میں بتایا کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے مقام کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں، اور امریکہ سے ان کے زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
🌍 عالمی ردِعمل
روسی حکومت نے وینیزویلا پر امریکی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت کاری کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کیا گیا۔
ایرانی حکومت نے بھی اس کارروائی کو وینیزویلا کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔
ہسپانوی حکومت نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی اور پرامن حل کی پیشکش کی ہے۔
جبکہ کولمبیا نے سرحدی علاقوں میں فوج تعینات کر دی ہے تاکہ کسی ممکنہ انسانی یا مہاجر بحران سے نمٹا جا سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور فی الحال مزید حملوں کا کوئی ارادہ نہیں۔
یہ کارروائی انیس سو نواسی میں پاناما پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکہ میں براہِ راست امریکی فوجی مداخلت کی سب سے بڑی مثال قرار دی جا رہی ہے۔
امریکہ وینیزویلا کی قیادت پر منشیات سے جڑی ریاست چلانے اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جبکہ وینیزویلا کا موقف ہے کہ اصل مقصد اس کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ ہے۔
یہ واقعہ محض ایک صدر کی گرفتاری کا دعویٰ نہیں، بلکہ عالمی نظام کے ضمیر کے سامنے ایک سوال ہے:
کیا طاقت کے زور پر جمہوریت قائم کی جا سکتی ہے،
یا اس کا نتیجہ صرف مزید خوف، عدمِ استحکام اور جنگ ہوتا ہے؟




Leave a Reply