چنئی (ساجد ندوی):
Measi Urdu Academy کے زیرِ اہتمام سہ ماہی میاسی آن لائن اردو لرننگ کورس کی کامیاب تکمیل کے موقع پر ایک باوقار جلسۂ تقسیمِ اسناد منعقد ہوا—ایک ایسی علمی و ادبی محفل جس میں زبان، روایت اور نئی نسل کے رشتے کو تازہ روح ملی۔
تقریب کی صدارت جناب امتیاز پاشا نے فرمائی، جبکہ جناب نذر محمد بطورِ مہمانِ خصوصی شریکِ محفل رہے۔ محفل کا آغاز سید خالد کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد ڈاکٹر غیاث احمد کی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ نے فضا کو روحانی کیف سے معمور کر دیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر طیب خرادی نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
ابتدائی کلمات میں چیئرمین جناب اے محمد اشرف نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اکیڈمی کی تعلیمی و لسانی خدمات اور ڈیجیٹل عہد میں اردو کے فروغ کے عزم پر روشنی ڈالی۔ مہمانِ خصوصی جناب نذر محمد نے اپنے خطاب میں آن لائن اردو لرننگ کورس کو عصرِ حاضر کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کورسز اردو زبان کے عالمی فروغ میں سنگِ میل ثابت ہو رہے ہیں۔
صدرِ جلسہ جناب امتیاز پاشا نے صدارتی خطاب میں اردو کے تحفظ اور نئی نسل تک اس کی مؤثر منتقلی پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ کورس ہمیشہ جاری و ساری رہے گا اور اس کے معیار و دائرۂ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔ نیو کالج کے پرنسپل جناب اسرار شریف نے بھی اردو کی اہمیت اجاگر کی اور طلبہ کو کورس سے بھرپور استفادہ کرنے کی تلقین کی۔
محفل میں اس آن لائن کورس کے بانی اور سابق معتمدِ اعزازی جناب الیاس سیٹھ (مرحوم) کی علمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ یہ کورس مرحوم کی دوراندیشی اور خلوصِ نیت کا ثمر ہے—اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
اسی موقع پر ڈاکٹر طیب خرادی کی تصنیف “جنوبی ہند میں اردو طنز و مزاح” کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی، جسے اہلِ علم نے اردو ادب کے لیے ایک قیمتی اضافہ قرار دیا۔ آخر میں کورس مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ واضح رہے کہ بیسک اور ایڈوانس کورسز میں 150 سے زائد امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی—جبکہ امریکہ، انگلینڈ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، سری لنکا اور ملیشیا سمیت بیرونِ ملک مقیم طلبہ کی اسناد مدراس میں مقیم رشتہ داروں نے وصول کیں۔ اب تک اس کورس سے 500 سے زائد طلبہ و طالبات مستفید ہو چکے ہیں۔
یہ تقریب محض اسناد کی تقسیم نہیں تھی؛ یہ اس عہد کی تجدید تھی کہ اردو—زمان و مکاں کی سرحدوں سے ماورا—ڈیجیٹل دنیا میں بھی اپنی روشنی بکھیرتی رہے گی۔
اختتام پر کنوینر جناب روح اللہ نے ہدیۂ تشکر پیش کرتے ہوئے اساتذہ، منتظمین، مہمانانِ گرامی اور شرکا کا شکریہ ادا کیا—یوں یہ علمی و ادبی محفل اپنی خوشبو چھوڑتی ہوئی اختتام پذیر ہوئی۔





Leave a Reply