🗞️ عالمی خبر
غزہ کی مزاحمت کا ایک اور باب بند — حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کی باضابطہ تصدیق
Gaza Strip



غزہ:
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اس کے عسکری ونگ کے ترجمان، جنہیں دنیا ابو عبیدہ کے نام سے جانتی تھی، اسرائیلی جنگ کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔ اسی بیان میں غزہ میں تنظیم کے سابق سربراہ محمد سنوار کی شہادت کی بھی توثیق کی گئی ہے۔
القسام بریگیڈز کی جانب سے جاری کردہ وڈیو بیان میں اعلان کیا گیا کہ تنظیم کے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ترجمان اب اس دنیا میں موجود نہیں رہے، اور ان کی جگہ ایک نیا نقاب پوش ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر پہلی بار ابو عبیدہ کی اصل شناخت بھی ظاہر کی گئی، جن کا نام حذیفہ سمیع عبداللہ الکہلوت بتایا گیا۔
نئے ترجمان نے بیان میں کہا:
“ہم فخر کے ساتھ عظیم قائد ابو عبیدہ کی شہادت کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم نے ان کا لقب اور ان کا راستہ وراثت میں پایا ہے۔”
ابو عبیدہ گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ پر جاری تباہ کن جنگ میں مزاحمت کی سب سے نمایاں آواز تھے۔ وہ محاذ کی صورتحال، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بیانات کے ذریعے فلسطینی عوام اور دنیا سے مخاطب ہوتے رہے۔ ان کا آخری بیان ستمبر کے اوائل میں سامنے آیا تھا، جب غزہ شہر کو میدانِ جنگ قرار دے کر وسیع پیمانے پر بمباری کی گئی اور ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے۔
القسام بریگیڈز نے اس موقع پر دیگر اہم کمانڈروں کی شہادت کی بھی تصدیق کی، جن میں رفح بریگیڈ کے سربراہ محمد شبانہ، حکم العیسیٰ اور رائد سعد شامل ہیں۔ یہ تمام نام ان رہنماؤں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جو گزشتہ دو برسوں میں اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہوئے، جن میں تنظیم کے اعلیٰ سیاسی و عسکری قائدین بھی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ محمد سنوار نے معروف عسکری قائد کے بعد نہایت مشکل مرحلے میں تنظیم کی قیادت سنبھالی اور آخرکار وہ بھی اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر گئے۔
جنگ بندی اور مزاحمت کا مؤقف
نئے ترجمان نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ حماس اب بھی جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے، تاہم اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قبضہ قائم رہے گا، مزاحمت اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
“ہم سرنگوں نہیں ہوں گے، چاہے ہمیں اپنے ناخنوں سے ہی لڑنا پڑے۔”
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے، اور خبردار کیا کہ خلاف ورزیوں کا جواب دینا مزاحمت کا حق ہے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی سیکڑوں فلسطینی جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک شہادتوں کی تعداد ناقابلِ تصور حد تک پہنچ چکی ہے۔
ابو عبیدہ کی شہادت محض ایک فرد کا جانا نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک علامت اور ایک مزاحمتی بیانیے کا باب ہے۔
غزہ کی ملبے تلے دبی گلیوں میں آج بھی وہی سوال گونج رہا ہے:
کیا آوازیں مار دی جاتی ہیں، یا صرف خاموش کر دی جاتی ہیں؟
Hamas Confirms Death of Abu Obeida, the Voice of Gaza’s Resistance
The Palestinian group Hamas has officially confirmed the death of Abu Obeida, the long-time spokesperson of its armed wing, during Israel’s devastating war on Gaza. The group also confirmed the killing of Mohammed Sinwar, its former leader in Gaza.
In a video statement, the al-Qassam Brigades announced Abu Obeida’s death for the first time and introduced a new masked spokesperson. The statement revealed that Abu Obeida’s real name was Hudhayfah Samir Abdullah al-Kahlout.
“We announce with pride the martyrdom of the great leader Abu Obeida,” the new spokesperson said, adding that the group has inherited his title and legacy.
Abu Obeida became the public face of Hamas’s media strategy during the two-year war on Gaza, issuing battlefield updates, statements on ceasefire violations, and messages on prisoner exchanges. His final address came in early September, as Israel launched a renewed assault on Gaza City.
The Qassam Brigades also confirmed the deaths of several senior commanders, including Mohammed Shabanah, head of the Rafah Brigade, along with Hakam al-Issa and Raed Saad. They join a growing list of Hamas political and military leaders killed during the war.
Addressing the current situation, the new spokesman said Hamas remains committed to the ceasefire despite what it described as repeated Israeli violations, rejecting calls for disarmament and warning that the right to respond remains intact.
The death of Abu Obeida marks the loss of a symbol rather than just a spokesman. In Gaza’s shattered streets, his voice lingers as a reminder that resistance narratives do not end with the fall of their messengers.





Leave a Reply