بنگلہ دیش میں دیپو چندر داس کا قتل ایک ایسا سانحہ ہے جس پر خاموشی ممکن نہیں۔ ہجومی تشدد کسی بھی مذہب، قوم یا ملک میں ہو، وہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہوتا ہے۔ ایک بے گناہ جان کا ضیاع پوری انسانی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، اور اس جرم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر غصے کا اظہار انصاف کی طرف لے جاتا ہے؟
جب احتجاج کی زبان اشتعال میں بدل جائے، جب دکھ کو اجتماعی غصے میں ڈھال دیا جائے، اور جب ’’جاگنے‘‘ جیسے نعرے کسی طبقے کو سڑکوں پر آنے کی دعوت بن جائیں—تو خطرہ صرف ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا نہیں رہتا، بلکہ ایک نئے فساد کے امکان کا بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ ہجوم پہلے جذبات سے بنتا ہے اور بعد میں لاشوں سے پہچانا جاتا ہے۔ انصاف کا راستہ ہجوم نہیں، قانون ہے۔ احتجاج کا وقار نعروں میں نہیں، دلیل، صبر اور اصول میں ہے۔ اگر قانون کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو پھر حق اور باطل کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔
الف نیوز سمجھتا ہے کہ دیپو چندر داس کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ نفرت کو ہوا دینے والی ہر آواز—چاہے وہ کتنی ہی معروف کیوں نہ ہو—اپنی اخلاقی ذمہ داری کو سمجھے۔ دکھ کو بیان کرنا حق ہے، مگر دکھ کو اشتعال میں بدل دینا ایک اجتماعی نقصان ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ دکھ اگر حکمت سے خالی ہو تو وہ انتقام میں بدل جاتا ہے، اور انتقام، چاہے کسی بھی نام سے پکارا جائے، آخرکار انسان کو انسان سے کاٹ دیتا ہے۔ اقلیتوں کے تحفظ کا مطالبہ بجا ہے، مگر اس کی بنیاد نفرت نہیں بلکہ انصاف ہونی چاہیے۔ ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ دیں، اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر اعتماد رکھیں۔ سوشل میڈیا کے نعرے لمحاتی جوش تو دے سکتے ہیں، مگر دیرپا حل کبھی فراہم نہیں کرتے۔
ضمیر کی آواز
انصاف کی حقیقی آواز وہ ہوتی ہے جو غصے میں نہیں، ہوش میں بولی جائے۔
جو ظلم کے خلاف کھڑی ہو، مگر نفرت کے ساتھ نہیں۔
جو مقتول کے حق میں ہو، مگر کسی نئے مقتول کی راہ ہموار نہ کرے۔
آج اگر ہم نے دکھ کو دانش سے نہ باندھا تو کل یہی دکھ ہمارے اجتماعی ضمیر کو خاموش کر دے گا۔
انصاف وہی پائیدار ہوتا ہے جو انسانیت کو بچائے—نہ کہ اسے مزید تقسیم کر دے۔




Leave a Reply