25°
Sunny, April 15, 2026 in Kathmandu

بنگلہ دیش میں دیپو چندر داس کا قتل ایک ایسا سانحہ ہے جس پر خاموشی ممکن نہیں۔ ہجومی تشدد کسی بھی مذہب، قوم یا ملک میں ہو، وہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہوتا ہے۔ ایک بے گناہ جان کا ضیاع پوری انسانی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، اور اس جرم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر غصے کا اظہار انصاف کی طرف لے جاتا ہے؟

جب احتجاج کی زبان اشتعال میں بدل جائے، جب دکھ کو اجتماعی غصے میں ڈھال دیا جائے، اور جب ’’جاگنے‘‘ جیسے نعرے کسی طبقے کو سڑکوں پر آنے کی دعوت بن جائیں—تو خطرہ صرف ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا نہیں رہتا، بلکہ ایک نئے فساد کے امکان کا بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ ہجوم پہلے جذبات سے بنتا ہے اور بعد میں لاشوں سے پہچانا جاتا ہے۔ انصاف کا راستہ ہجوم نہیں، قانون ہے۔ احتجاج کا وقار نعروں میں نہیں، دلیل، صبر اور اصول میں ہے۔ اگر قانون کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو پھر حق اور باطل کے درمیان فرق مٹنے لگتا ہے۔

الف نیوز سمجھتا ہے کہ دیپو چندر داس کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ نفرت کو ہوا دینے والی ہر آواز—چاہے وہ کتنی ہی معروف کیوں نہ ہو—اپنی اخلاقی ذمہ داری کو سمجھے۔ دکھ کو بیان کرنا حق ہے، مگر دکھ کو اشتعال میں بدل دینا ایک اجتماعی نقصان ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ دکھ اگر حکمت سے خالی ہو تو وہ انتقام میں بدل جاتا ہے، اور انتقام، چاہے کسی بھی نام سے پکارا جائے، آخرکار انسان کو انسان سے کاٹ دیتا ہے۔ اقلیتوں کے تحفظ کا مطالبہ بجا ہے، مگر اس کی بنیاد نفرت نہیں بلکہ انصاف ہونی چاہیے۔ ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ دیں، اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون پر اعتماد رکھیں۔ سوشل میڈیا کے نعرے لمحاتی جوش تو دے سکتے ہیں، مگر دیرپا حل کبھی فراہم نہیں کرتے۔

ضمیر کی آواز

انصاف کی حقیقی آواز وہ ہوتی ہے جو غصے میں نہیں، ہوش میں بولی جائے۔

جو ظلم کے خلاف کھڑی ہو، مگر نفرت کے ساتھ نہیں۔
جو مقتول کے حق میں ہو، مگر کسی نئے مقتول کی راہ ہموار نہ کرے۔

آج اگر ہم نے دکھ کو دانش سے نہ باندھا تو کل یہی دکھ ہمارے اجتماعی ضمیر کو خاموش کر دے گا۔

انصاف وہی پائیدار ہوتا ہے جو انسانیت کو بچائے—نہ کہ اسے مزید تقسیم کر دے۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
دسمبر 2025
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading