اے دستورِ ہند!آج ہم تم سے ایک شہری کی طرح نہیں،بلکہ ایک فکرمند ضمیر کی طرح مخاطب ہیں۔
تم اس دن وجود میں آئے تھےجب ایک زخم خوردہ، بٹا ہوا، مگر پُرامید ملک یہ عہد کر رہا تھا کہ اب کسی شہری کی پہچان اس کے مذہب، ذات، زبان یا لباس سے نہیں ہوگی—بلکہ برابری، انصاف اور آزادی سے ہوگی۔
تم نے وعدہ کیا تھا کہ اکثریت طاقت نہیں بنے گی،اور اقلیت خوف زدہ نہیں۔
مگر آج اے دستور! ہم تمہیں صفحات میں بند،اور گلیوں میں زخمی دیکھ رہے ہیں۔
آج تمہارے نام پر کیا ہو رہا ہے؟
آج تمہارے نام پر:
عبادت گاہوں پر حملے ہوتے ہیں
تہوار خوف میں بدل جاتے ہیں
اختلافِ رائے غداری کہلاتا ہے
اور مذہب قانون سے بڑا دعویٰ کرنے لگتا ہے
تم کہتے ہو:
سب برابر ہیں
مگر حقیقت میں برابری مشروط ہو چکی ہے۔
کیا تم واقعی سب سے اوپر ہو؟
اے آئین!جب یہ کہا جائے کہ
“ہم تمہارے مطابق نہیں، کسی دھرم کے مطابق چلیں گے”
تو سوال تم سے نہیں،ہم سب سے ہے۔
اگر آئین بالا تر نہیں رہا تو انصاف کس در پر جائے گا؟
کمزور کس سائے میں پناہ لے گا؟
اور اختلاف کہاں سانس لے گا؟
تمہارے خالق کی وصیت
تمہارے معمار، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، نے خبردار کیا تھا کہ:
“آئین کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو،اگر اسے چلانے والے بد نیت ہوں تو وہ ناکام ہو جائے گا۔”
آج یہ جملہ تاریخ نہیں،حقیقت بن چکا ہے۔
ہماری خاموشی — تمہاری شکست
اے دستور! ہم مانتے ہیں کہ تم اکیلے نہیں ہار رہے— ہم بھی ہار رہے ہیں۔
ہم نے:
نفرت کو نظر انداز کیا
جھوٹ کو برداشت کیا
اور ظلم پر خاموشی اوڑھ لی
اور یہی خاموشی تمہاری سب سے بڑی دشمن بنی۔
آخری سوال
کیا ہندوستان وہ ملک بنے گاجہاں شہری ہونے سے پہلےمذہب پوچھا جائے؟
کیا تم صرف کتاب رہ جاؤ گےاور سڑک قانون بن جائے گی؟
اگر ایسا ہوا تو یہ صرف تمہاری شکست نہیں ہوگی، یہ قوم کے ضمیر کا جنازہ ہوگا۔
وعدہ یا وداع؟
آج ہم تم سے عہد کرتے ہیں: یا تو ہم تمہیں بچائیں گے یا تاریخ میں یہ مانیں گے کہ ہم نے تمہیں اکیلا چھوڑ دیا۔
اے دستورِ ہند! اگر تم گرےتو ہم سب گریں گے۔




Leave a Reply