25°
Sunny, April 18, 2026 in Kathmandu

اے دستورِ ہند!آج ہم تم سے ایک شہری کی طرح نہیں،بلکہ ایک فکرمند ضمیر کی طرح مخاطب ہیں۔

تم اس دن وجود میں آئے تھےجب ایک زخم خوردہ، بٹا ہوا، مگر پُرامید ملک یہ عہد کر رہا تھا کہ اب کسی شہری کی پہچان اس کے مذہب، ذات، زبان یا لباس سے نہیں ہوگی—بلکہ برابری، انصاف اور آزادی سے ہوگی۔

تم نے وعدہ کیا تھا کہ اکثریت طاقت نہیں بنے گی،اور اقلیت خوف زدہ نہیں۔

مگر آج اے دستور! ہم تمہیں صفحات میں بند،اور گلیوں میں زخمی دیکھ رہے ہیں۔
آج تمہارے نام پر کیا ہو رہا ہے؟
آج تمہارے نام پر:
عبادت گاہوں پر حملے ہوتے ہیں
تہوار خوف میں بدل جاتے ہیں
اختلافِ رائے غداری کہلاتا ہے
اور مذہب قانون سے بڑا دعویٰ کرنے لگتا ہے
تم کہتے ہو:
سب برابر ہیں
مگر حقیقت میں برابری مشروط ہو چکی ہے۔
کیا تم واقعی سب سے اوپر ہو؟
اے آئین!جب یہ کہا جائے کہ
“ہم تمہارے مطابق نہیں، کسی دھرم کے مطابق چلیں گے”
تو سوال تم سے نہیں،ہم سب سے ہے۔
اگر آئین بالا تر نہیں رہا تو انصاف کس در پر جائے گا؟
کمزور کس سائے میں پناہ لے گا؟
اور اختلاف کہاں سانس لے گا؟

تمہارے خالق کی وصیت
تمہارے معمار، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، نے خبردار کیا تھا کہ:
“آئین کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو،اگر اسے چلانے والے بد نیت ہوں تو وہ ناکام ہو جائے گا۔”
آج یہ جملہ تاریخ نہیں،حقیقت بن چکا ہے۔

ہماری خاموشی — تمہاری شکست
اے دستور!  ہم مانتے ہیں کہ تم اکیلے نہیں ہار رہے— ہم بھی ہار رہے ہیں۔
ہم نے:
نفرت کو نظر انداز کیا
جھوٹ کو برداشت کیا
اور ظلم پر خاموشی اوڑھ لی
اور یہی خاموشی تمہاری سب سے بڑی دشمن بنی۔

آخری سوال
کیا ہندوستان وہ ملک بنے گاجہاں شہری ہونے سے پہلےمذہب پوچھا جائے؟
کیا تم صرف کتاب رہ جاؤ گےاور سڑک قانون بن جائے گی؟
اگر ایسا ہوا تو یہ صرف تمہاری شکست نہیں ہوگی، یہ قوم کے ضمیر کا جنازہ ہوگا۔

وعدہ یا وداع؟
آج ہم تم سے عہد کرتے ہیں: یا تو ہم تمہیں بچائیں گے یا تاریخ میں یہ مانیں گے کہ ہم نے تمہیں اکیلا چھوڑ دیا۔
اے دستورِ ہند!  اگر تم گرےتو ہم سب گریں گے۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
دسمبر 2025
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading