اکبر زاہد
طرحی مصرع:
عکس تیرا ہے دل کے درپن میں
عکس تیرا ہے دل کے درپن میں
نور پھیلا ہوا ہے تن من میں
تیری یادوں کا اک سمندر ہے
موج در موج ہے مرے بن میں
میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہے
تو ہی موجود جابجا فن میں
دل کی ویرانیاں مہک اٹھیں
ذکر آیا جو تیرا گلشن میں
سجدۂ شوق میں جھکا سر یوں
جیسے کعبہ ہو میرے آنگن میں
میری ہستی کا راز کیا کہیے
تو ہی جلوہ نما ہے اس تن میں
دوسرا طرحی مصرع:
منہ میں جب تک زبان باقی ہے
منہ میں جب تک زبان باقی ہے
حرفِ صدق و فغان باقی ہے
عشق نے جو دئے ہیں داغِ دل
ان کا ہر اک نشان باقی ہے
عمرِ فانی کے اس خرابے میں
اپنی سانسوں کی شان باقی ہے
گردشِ دہر لے گئی سب کچھ
نیکیوں کا نشان باقی ہے
جو رہا سچ پہ عمر بھر قائم
اس کا روشن جہان باقی ہے
تجربے نے یہی سکھایا ہے
خیر کا ہر نشان باقی ہے
اپنے باطن میں جھانک لے زاہد
لامکانی جہان باقی ہے




Leave a Reply