دنیا بھر میں سیاسی، معاشی اور سماجی بے چینی نے ہمارے معاشروں کے نہاں خانوں سے ایسی لہریں اٹھا دی ہیں جو انسانی قدروں کی بنیاد کو دھیمے دھیمے کرید رہی ہیں۔
شاید یہی زمانہ تھا جب ہمیں اپنی تہذیب کے اصل چہرے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی ضرورت تھی۔ نفرت، تعصب، جھوٹ اور تشدد — یہ سب محض واقعات نہیں، بلکہ علامات ہیں… ایسی علامات جو ہمیں بتا رہی ہیں کہ انسان، اپنی پوری فکری ترقی کے باوجود، اب بھی اپنے نفس اور خواہش کے مقابلے میں حیران کن حد تک کمزور ہے۔
گزشتہ برسوں میں ہم نے دیکھا کہ قومیں قوموں سے، مذاہب مذاہب سے، اور انسان انسان سے دور ہوتا چلا گیا۔
دنیا کے کئی خطوں میں جنگیں، تنازعات، بم دھماکے، مذہبی کشیدگی، لسانی تقسیم اور ذات پات کے زخم مسلسل گہرے ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس تقسیم کو تیز تر اور بے رحم بنا دیا ہے۔ لفظوں کی حرمت پامال ہے، زبانیں زخم گھولتی ہیں، دل آہنی ہوگئے ہیں۔ اختلاف، دشمنی بن چکا ہے۔ دلیل، نفرت میں بدلتی جا رہی ہے۔
یہ لمحۂ فکریہ ہے۔
کوئی معاشرہ صرف اقتصادی شرحِ نمو سے مضبوط نہیں بنتا، نہ کسی ملک کی طاقت صرف اس کے دفاعی بجٹ سے ماپی جاتی ہے۔
اصل قوت انسان کے اخلاق، علم، برداشت، رواداری اور انصاف میں پوشیدہ ہے۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جو تہذیبوں کو فنا سے بچاتی ہیں۔
افسوس کہ آج انسانیت کے سامنے سب سے بڑا بحران امن کا نہیں، احساس کا ہے۔ ہم نے دوسروں کو صرف گروہوں، مذہبوں اور شناختوں میں بانٹ کر انسان کے اصل جوہر کو فراموش کر دیا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں رک کر سوال پوچھنے چاہئیں:
کیا ہم واقعی ترقی کے راستے پر ہیں؟
یا ہم نفرت اور انتقام کے دھارے میں بہہ رہے ہیں؟
کیا ہماری سیاست نسلیں سنوار رہی ہے یا ذہن جلا رہی ہے؟
اگر جوابوں میں اندھیرا زیادہ ہے تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اندھیرے کی سب سے بڑی دشمن روشنی ہے — بات کی روشنی، اخلاق کی روشنی، قانون اور انصاف کی روشنی۔ اسی لیے آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت مکالمے کی ہے، خاموشی ٹوٹنے کی ہے، اور اس بات کی ہے کہ ہر انسان دوسرے انسان کو انسان سمجھے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نفرت کی اس آگ کو بجھانے کیلئے تعلیم، قانون، میڈیا اور مذہبی و سماجی قیادت کو ایک ہی سمت متوجہ کریں۔ ہمیں ایسی فضا استوار کرنا ہوگی جہاں اختلاف زندہ رہے لیکن دشمنی مر جائے؛ جہاں آوازیں بلند ہوں مگر لہجے مہذب رہیں؛ جہاں سوال اٹھیں مگر انسانیت نیچے نہ گرے۔
دنیا کو امن کی ضرورت ہے، اور امن انسانوں سے بنتا ہے — مضبوط دلوں، زندہ ضمیروں اور وسیع ذہنوں سے۔
اگر ہم نے نفرت کی اس لہر کو روکنے میں دیر کر دی تو تاریخ پھر وہی سوال اٹھائے گی جو اس نے بارہا اٹھایا ہے: آخر انسان اپنے خلاف کیوں ہو جاتا ہے؟
ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ مستقبل تاریکی کا ورق ہوگا یا روشنی کا عنوان۔
یہ سوال تہذیب کا ہے۔ اور اس کا جواب ہم سب کے پاس ہے۔
اراولی پہاڑیوں کی نئی تعریف پر شدید اختلاف؛ بھارت کے کئی شہروں میں احتجاج
نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے اراولی پہاڑیوں کی نئی قانونی تعریف منظور کیے جانے کے بعد شمالی علاقوں میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔
عدالت کے مطابق وہ زمینیں جو اپنے اطراف کے مقابلے میں 100 میٹر بلند ہوں، اراولی تصور ہوں گی، جبکہ دو ایسی پہاڑیوں کا 500 میٹر کے فاصلے میں ہونا ایک سلسلہ کہلائے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نیا پیمانہ اراولی کی کم بلندی والی مگر ماحولیاتی طور پر نہایت اہم پہاڑیوں کو قانونی تحفظ سے محروم کرکے کان کنی اور تعمیرات کے لیے راستہ کھول سکتا ہے۔
گڑگاؤں اور اُدے پور سمیت کئی شہروں میں مقامی باشندوں، کسانوں اور ماحول دوست کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اراولی صرف پہاڑ نہیں، صحراؤں کو روکنے اور پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھنے والی ایک حیاتیاتی ڈھال ہے۔
دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی تعریف کا مقصد قوانین کو آسان اور یکساں بنانا ہے، اور اراولی کے بیشتر علاقوں میں کان کنی پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ حفاظت میں کمی کا تاثر غلط ہے، جبکہ ماہرین اور سیاسی رہنما اس بات پر مصر ہیں کہ اراولی کا معاملہ صرف زمین اور بلندی کا نہیں، پورے خطے کے مستقبل، موسم اور بقا کا ہے — یہی وجہ ہے کہ احتجاجی گروہوں نے عدالتی نظرثانی کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔




Leave a Reply