ہجومی تشدد—چاہے اس کا نشانہ ہندو ہو یا مسلمان—ایک ایسا المیہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں، نہ ہی کسی ایک قوم یا ملک تک محدود المیہ؛ بلکہ یہ انسانیت کے چہرے پر پڑا وہ بدنما داغ ہے جو ہر مہذب معاشرے کو شرمندہ کر دیتا ہے۔ جب کوئی ہجوم قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو سب سے پہلے انصاف کا جنازہ نکلتا ہے۔
مشتعل نعروں، اندھی نفرت اور جھوٹے جذبات کے شور میں ایک انسان کی سانس ٹوٹتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی ریاست کی رِٹ، سماج کی اقدار اور مذہب کی اصل روح بھی لہولہان ہو جاتی ہے۔ ہجومی تشدد نہ ہندو دھرم کی نمائندگی کرتا ہے، نہ اسلام کی، بلکہ یہ صرف اور صرف وحشت کی عکاسی ہے۔
بنگلہ دیش ہو یا برصغیر کا کوئی اور خطہ، جب کسی بے گناہ کو اس کے مذہب، شناخت یا محض افواہ کی بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے تو یہ سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر ریاست کہاں کھڑی ہے؟ قانون کہاں سو رہا ہے؟ اور سماج کا ضمیر کس خوف یا مصلحت کے تحت خاموش ہے؟
اقلیتوں کے خلاف تشدد ہو یا اکثریت کے نام پر ظلم—دونوں صورتوں میں نقصان ایک ہی ہوتا ہے: معاشرتی ہم آہنگی کا قتل۔ یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ نسلوں کے ذہنوں میں سرایت کر جاتا ہے اور پھر ایک دن پورا سماج عدمِ اعتماد، خوف اور نفرت کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔
ریاستوں کی ذمہ داری صرف گرفتاریاں دکھانا نہیں، بلکہ اس سوچ کا قلع قمع کرنا ہے جو ہجوم کو قاتل بناتی ہے۔ نفرت انگیز بیانیہ، مذہب کا سیاسی استعمال اور انصاف میں تاخیر—یہ سب ہجومی تشدد کے خاموش سرپرست ہیں۔
جب تک ان عوامل کا سدباب نہیں کیا جاتا، ہر گرفتاری محض وقتی تسلی بن کر رہ جاتی ہے۔
یہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم قانون کے ساتھ کھڑے ہیں یا ہجوم کے ساتھ؛ انسانیت کے ساتھ یا جنون کے ساتھ۔ کیونکہ یاد رکھیے، آج اگر کسی اور کے خون پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہ خاموشی خود ہمارے دروازے پر دستک دے سکتی ہے۔ ہجومی تشدد کی کوئی توجیہ نہیں، کوئی مذہب نہیں، کوئی جواز نہیں۔ یہ صرف جرم ہے—اور جرم کے خلاف خاموشی بھی جرم کے برابر ہے۔




Leave a Reply