خصوصی مضمون
سیّد اکبر زاہد
30 اپریل 2026ء کی صبح جب جامعہ دار السلام عمرآباد کے فضاؤں میں یہ خبر گونجی کہ استاذِ محترم مولانا ڈاکٹر شیخ سعید احمد عمری اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے، تو یہ محض ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک پورے عہد کی خاموشی تھی—وہ عہد جس میں علم، اخلاص، تربیت اور کردار سازی ایک ہی شخصیت میں مجتمع تھے۔
جناب وصی اللہ بختیاری، جناب نمازی عبدالکریم عارف اور جناب ایم پی انور فرید کے تاثرات نے اس سانحے کو محض خبر نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ایک ایسی زندہ یاد میں بدل دیا جس میں ایک معلم، ایک مربی اور ایک صاحبِ دل انسان کی مکمل تصویر جھلکتی ہے۔
علم کا تسلسل — ایک خانوادہ، ایک روایت
ڈاکٹر شیخ سعید احمد ناصر عمری ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جہاں علم محض پیشہ نہیں بلکہ ایک امانت تھا۔ ان کے والد محترم، شیخ عبد اللہ عمری، جماعت اسلامی ہند تمل ناڈو کے اولین امیر حلقہ میں شمار ہوتے تھے—ایک ایسی شخصیت جنہوں نے دعوتی ادب کو تمل زبان میں منتقل کر کے علم کو نئی وسعت عطا کی۔
جناب انور فرید نے شیخ عبد اللہ عمری کے اوصاف بیان کرتے ہوئے لکھا کہ وہ غریب کارکنوں کی جھونپڑیوں میں بھی اسی وقار سے قیام کرتے جیسے کسی بڑے مکان میں—یہی درویشی، یہی اصل عظمت ہے۔
یہی درویشی، یہی بے نفسی اور یہی اخلاص ایک خاموش وراثت کی صورت میں ڈاکٹر سعید احمد عمری کی شخصیت میں بھی منتقل ہوا، جو ان کے ہر عمل میں جھلکتا تھا۔
تدریس نہیں، تعمیرِ انسان
جامعہ دار السلام عمرآباد میں ان کی تدریسی خدمات محض اسباق کی ترسیل تک محدود نہ تھیں، بلکہ وہ ذہنوں کی آبیاری اور کردار کی تعمیر کا ایک ہمہ جہت عمل تھیں۔ وہ طلبہ کو کتاب سے آگے لے جا کر فکر کی دنیا میں داخل کرتے، ان کے اندر مطالعہ کا ذوق بیدار کرتے اور انہیں اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچاننے کا حوصلہ دیتے۔
وہ ایک کامیاب استاد سے بڑھ کر ایک مربی تھے—ایسے مربی جو طلبہ کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں اور ان کی زندگیوں کا رخ متعین کرتے ہیں۔
سادگی میں عظمت کا عکس
ڈاکٹر عمری کی زندگی سادگی اور وقار کا حسین امتزاج تھی۔ ہلکے رنگ کا لباس، بے تکلف انداز، اور نام و نمود سے گریز—یہ سب ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ وہ تیز قدمی سے چلتے، مگر جب کوئی طالب علم ان سے مخاطب ہوتا تو پوری توجہ سے سنتے۔
ان کی یہ سادگی محض ذاتی وصف نہیں بلکہ ایک خاندانی روایت کا تسلسل تھی—وہ روایت جو ان کے والد کے کردار میں نمایاں تھی اور جس نے ان کی اپنی شخصیت کو بھی اسی روشنی سے منور کیا۔
علم و تحقیق کی جستجو
علم کے ساتھ ان کا تعلق عمر بھر قائم رہا۔ مدراس یونیورسٹی اور نیو کالج چنئی میں پی ایچ ڈی کا سفر اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سیکھنے کے عمل کو کبھی مکمل نہیں سمجھتے تھے۔
ان کا تحقیقی موضوع “قرآن مجید میں قیامت کے مناظر میں ادبیت اور بلاغت” اس امر کا غماز ہے کہ وہ قرآن کو محض مذہبی متن نہیں بلکہ ایک ادبی اور فکری معجزہ سمجھتے تھے۔
خدمتِ قرآن — ایک جاری صدقہ
وانمباڑی کی مسجد ہدیٰ وانمباڑی میں تینتیس برس تک خطبہ جمعہ دینا، رمضان المبارک میں مسلسل تفسیرِ قرآن کے دروس، اور “المدینہ عربک کلاس” جیسے تعلیمی منصوبے—یہ سب اس بات کے روشن شواہد ہیں کہ ان کی زندگی کا محور قرآن تھا۔
وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے لیے علم دین محض معلومات نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام تھا، جو وہ نسلوں تک منتقل کرتے رہے۔
رشتوں کی حرارت اور یادوں کی روشنی
جناب وصی اللہ بختیاری کے تاثرات میں استاد اور شاگرد کے تعلق کی وہ حرارت جھلکتی ہے جو وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتی بلکہ اور گہری ہو جاتی ہے۔ پرانے خاندانی روابط، وانمباڑی کی ملاقاتیں، اور شفقت سے لبریز برتاؤ—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر عمری دلوں میں بستے تھے، محض ذہنوں میں نہیں۔
آخری سفر — خاموشی کی گونج
بیماری کے ایام، بنگلور کے نارائنی اسپتال سے چنئی کے اسپتال تک علاج کا سفر، اور پھر 30 اپریل کی وہ صبح—یہ سب ایک طے شدہ تقدیر کا حصہ تھا۔
نمازِ جنازہ میں شریک ہزاروں افراد کی اشکبار آنکھیں اس حقیقت کی گواہ تھیں کہ یہ رخصتی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک عہد کی تھی۔
ایک چراغ جو بجھ کر بھی روشن ہے
ڈاکٹر شیخ سعید احمد عمری کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم صرف کتابوں میں نہیں، بلکہ کردار میں بھی جلوہ گر ہوتا ہے۔ ایک استاد کا اصل مقام اس کے شاگردوں کے دلوں میں ہوتا ہے، اور وہ وہاں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
ان کی خاموشی میں بھی ایک پیغام ہے—علم کو زندہ رکھو، اخلاص کو تھامے رکھو، اور انسانیت کی شمع کو بجھنے نہ دو۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اور ان کے علمی و تربیتی فیوض کو صدقۂ جاریہ بنا دے۔
آمین۔








Leave a Reply