25°
Sunny, May 2, 2026 in Kathmandu
کوہِ نور ہیرے کی واپسی اور ظہران ممدانی کی خواہش


کیا کوہِ نور ہیرا بھارت کو مل سکتا ہے

کبھی کبھی تاریخ کے زخم صدیوں بعد بھی لفظوں کی صورت میں جاگ اٹھتے ہیں۔

امریکہ کے شہر نیوریاک سٹی کے میئر ظہران  ممدانی نے ایک ایسا جملہ ادا کیا ہے جس نے ماضی کی خاموش دیواروں میں ہلچل پیدا کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع ملے تو وہ کنگ چارلس  سوم سے درخواست کریں گے کہ کوہِ نور ہیرا بھارت کو واپس لوٹا دیا جائے۔

یہ صرف ایک ہیرا نہیں—یہ ایک داستان ہے۔ ایک ایسا چراغ جو کبھی مغل درباروں میں چمکا، کبھی ایرانی شاہوں کے تاج کا حصہ بنا، اور پھر برصغیر کی تقدیر کے ساتھ بہہ کر برطانوی تاج میں جا ٹھہرا۔

سنہ 1850 میں، جب اقتدار کی بساط بدل چکی تھی، یہ ہیرا ایسٹ  انڈیا  کمپنی کے توسط سے ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ ہیرا نہ صرف ایک زیور بلکہ ایک سوال بن گیا—ایک ایسا سوال جو آج بھی انصاف اور تاریخ کے درمیان معلق ہے۔

بھارت نے بارہا اس قیمتی ورثے کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یہ ہیرا محض قیمتی پتھر نہیں بلکہ ایک یادگارِ تاریخ ہے—ایک ایسا آئینہ جس میں نوآبادیاتی دور کی تلخیاں جھلکتی ہیں۔

ممدانی کے یہ الفاظ گویا ایک نرم صدا ہیں، جو طاقت کے ایوانوں میں نہیں بلکہ ضمیر کے دروازوں پر دستک دیتی ہے۔ سوال اب بھی وہی ہے:
کیا تاریخ کبھی اپنے بچھڑے ہوئے چراغ واپس لوٹا سکتی ہے؟


Would encourage King Charles III to return the Koh-i-Noor diamond to India: Zohran Mamdani

Sometimes, history does not fade—it whispers across centuries.

In New York City, Mayor Zohran Mamdani stirred a profound historical reflection when he remarked that, given the opportunity, he would encourage King Charles III to return the Koh-i-Noor diamond to India.

This is no ordinary gem—it is a narrative carved in light. Once adorning the courts of Mughal emperors, passing through Persian and Afghan hands, it ultimately found its place within the British Crown—carried along the tides of empire and conquest.

In 1850, following the annexation of Punjab, the diamond was presented to Queen Victoria under the authority of the East India Company. Since then, it has remained more than a royal jewel—it has become a symbol, a lingering question suspended between history and justice.

India has repeatedly called for its return, viewing it as a treasured fragment of its civilizational heritage—one that reflects both brilliance and the shadows of colonial memory.

Mamdani’s words are not a demand, but a quiet moral echo—less a political statement and more a conversation with history itself.

And the question endures:
Can history ever return what it once took away?


Leave a Reply

اعتماد ٹوٹتا ہے تو محض ایک پارٹی نہیں، بلکہ پورا جمہوری نظام مجروح ہوتا ہے

فیچر مضمون سیّد اکبر زاہد جمہوریت کی روح صرف ووٹ ڈالنے کے عمل میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو عوام اپنے نمائندوں پر کرتے ہیں۔ جب یہ اعتماد ٹوٹتا ہے تو محض ایک پارٹی نہیں، بلکہ پورا جمہوری نظام مجروح ہوتا ہے۔ حالیہ واقعہ، جس میں Raghav Chadha اور ان کے…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading