25°
Sunny, May 2, 2026 in Kathmandu
اعتماد ٹوٹتا ہے تو محض ایک پارٹی نہیں، بلکہ پورا جمہوری نظام مجروح ہوتا ہے

فیچر مضمون

سیّد اکبر زاہد

جمہوریت کی روح صرف ووٹ ڈالنے کے عمل میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو عوام اپنے نمائندوں پر کرتے ہیں۔ جب یہ اعتماد ٹوٹتا ہے تو محض ایک پارٹی نہیں، بلکہ پورا جمہوری نظام مجروح ہوتا ہے۔ حالیہ واقعہ، جس میں Raghav Chadha اور ان کے ساتھ چھ دیگر اراکینِ پارلیمان نے Aam Aadmi Party کو خیرباد کہہ کر Bharatiya Janata Party میں شمولیت اختیار کی، اسی زخم کی ایک تازہ مثال ہے۔

یہ محض سیاسی وفاداری کی تبدیلی نہیں، بلکہ عوامی مینڈیٹ کی معنویت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جن لوگوں نے تپتی دھوپ میں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ دیا، وہ کسی فرد کو نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک منشور اور ایک سیاسی سمت کو منتخب کر رہے تھے۔ ان کا ووٹ دراصل عام آدمی پارٹی کے نام، اس کی پالیسیوں اور بی جے پی کے خلاف ایک واضح موقف کے حق میں تھا۔

ایسے میں اگر وہی منتخب نمائندے، جنہیں عوام نے ایک مخصوص پلیٹ فارم پر اعتماد دے کر بھیجا تھا، اچانک اپنی وفاداری بدل لیں، تو یہ سوال فطری ہے:
کیا یہ جمہوری اصولوں کی پاسداری ہے یا ان سے انحراف؟
کیا یہ سیاسی حکمتِ عملی ہے یا ضمیر کی سوداگری؟

یہ تضاد اس وقت اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے جب ہمیں Raghav Chadha کے وہ بیانات یاد آتے ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی رکنِ اسمبلی یا پارلیمان عوام کو دھوکہ دے تو عوام کو اسے ہٹانے کا اختیار ہونا چاہیے۔ آج وہی اصول ان کے اپنے عمل کے سامنے کھڑا سوال بن چکا ہے۔

قانونی پہلو اس بحث کو ایک اور زاویہ دیتا ہے۔ بھارت کے آئین کی Tenth Schedule of the Constitution of India، جسے عام طور پر اینٹی ڈیفیکشن لا کہا جاتا ہے، اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اگر کوئی رکن اپنی پارٹی چھوڑ دے تو اسے نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اسی قانون میں ایک اہم استثنا بھی موجود ہے: اگر کسی پارٹی کے کم از کم دو تہائی ارکان اجتماعی طور پر دوسری پارٹی میں شامل ہو جائیں، تو اسے “انضمام” تصور کیا جاتا ہے اور انہیں نااہلی سے بچایا جا سکتا ہے۔

یہاں قانون ایک دروازہ ضرور کھولتا ہے—مگر یہی دروازہ ایک گہرا اخلاقی سوال بھی جنم دیتا ہے:
کیا تعداد کی طاقت، عوام کے اعتماد پر فوقیت رکھ سکتی ہے؟
کیا دو تہائی ہو جانے سے ضمیر کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے؟

جمہوریت صرف قوانین سے نہیں چلتی، بلکہ اصولوں، دیانت اور عوامی اعتماد سے زندہ رہتی ہے۔ جب منتخب نمائندے اپنے وعدوں اور نظریات سے انحراف کرتے ہیں، تو وہ صرف اپنی ساکھ نہیں، بلکہ ووٹر کے یقین کو بھی مجروح کرتے ہیں۔

الف نیوز کے قارئین کے لیے یہ لمحہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے—جس میں ہمیں اپنی جمہوریت کا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ اگر عوام کا ووٹ محض ایک سیڑھی بن جائے، اور اقتدار کی منزل بدلتے ہی وفاداریاں بھی بدل جائیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ جمہوریت باقی رہتی ہے یا صرف اس کا سایہ؟


Feature Article

In Politics, when the trust is broken, the very fabric of democracy is wounded.

Democracy does not merely reside in the act of voting; it thrives on the trust that citizens place in their elected representatives. When that trust is broken, it is not just a political party that suffers—it is the very fabric of democracy that is wounded. The recent development, where Raghav Chadha and six other Members of Parliament resigned from the Aam Aadmi Party and joined the Bharatiya Janata Party, stands as a stark reminder of this fracture.

This is not merely a shift in political allegiance; it raises serious questions about the sanctity of the public mandate. The citizens who stood for hours under the scorching sun were not voting for individuals alone—they were endorsing an ideology, a manifesto, and a political direction. Their vote was cast for AAP and its stance, often in opposition to the BJP.

When elected representatives, entrusted with such a mandate, abruptly change sides, one must ask:
Is this democratic freedom, or democratic betrayal?
Is this strategy, or a sale of conscience?

The irony deepens when we recall Raghav Chadha’s own assertion that voters should have the right to remove representatives who betray them. Today, that very principle casts a long shadow over his actions.

The legal dimension adds another layer to this debate. Under the Tenth Schedule of the Constitution of India, commonly known as the Anti-Defection Law, legislators who switch parties may face disqualification. However, the law also provides a crucial exception: if at least two-thirds of the members of a party move together to another party, it is treated as a “merger,” protecting them from disqualification.

Here, the law opens a door—but in doing so, it also raises a deeper moral dilemma:
Can numerical strength override the trust of the people?
Does reaching the two-thirds mark absolve one of ethical responsibility?

Democracy is sustained not just by laws, but by integrity, accountability, and respect for the people’s will. When representatives abandon the platform on which they were elected, they do not merely change parties—they risk eroding public faith itself.

For readers of Alif News, this is more than a headline—it is a moment of reflection. If the people’s vote becomes a ladder to power, only to be discarded once the destination is reached, then one must ask: does democracy still stand, or has it become a shadow of itself?

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading