25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
جب شہر خاموش ہوں اور انسان لاپتہ

الف نیوز شمارہ نمبر: 116؛ تاریخ: 7 فروری 2025؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد


اداریہ

دارالحکومت کی سڑکیں آج بھی روشن ہیں، مگر ان روشنیوں کے بیچ کہیں کوئی سایہ گم ہو گیا ہے۔ کوئی بیٹی، کوئی ماں، کوئی بھائی—اعداد میں سمٹتے یہ نام محض فائلوں کی سطریں نہیں، یہ گھروں کے دروازوں پر ٹکی آنکھیں ہیں، جو رات گئے بھی لوٹ آنے کی امید سے بجھتی نہیں۔

لاپتہ افراد کی خبریں اب محض ایک روزہ سرخی نہیں رہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی شعور پر دستک دیتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کس جماعت نے کیا کہا، یا کس حکومت نے کس پر الزام رکھا—سوال یہ ہے کہ ریاست کی ذمہ داری کہاں ٹھہرتی ہے اور انسان کی حرمت کہاں کھو جاتی ہے۔

جب اقتدار کے ایوانوں میں بحث شور بن جائے اور گلیوں میں خوف خاموشی، تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف نظم و نسق کا نہیں رہا۔ یہ اخلاقی بحران ہے۔ وہ بحران جس میں عورت کی سلامتی ایک وعدہ بن کر رہ جائے، اور شہری کا اعتماد ایک فائل میں بند نوٹ۔

پولیس کے اعداد و شمار اگر تسلی دیتے ہیں تو یہ بھی سچ ہے کہ اعداد کبھی آنسو نہیں پونچھتے۔ کسی ماں کے لیے “اپ ڈیٹ” کافی نہیں، اسے بیٹے کی آہٹ چاہیے۔ کسی باپ کے لیے پریس بریفنگ کافی نہیں، اسے بیٹی کی سلامتی کا یقین چاہیے۔ اور کسی شہر کے لیے سیاست کافی نہیں، اسے انصاف چاہیے—نظر آنے والا، محسوس ہونے والا۔

یہ وقت الزام تراشی سے آگے بڑھنے کا ہے۔ یہ وقت ہے جواب دہی، شفافیت اور فوری عمل کا۔ یہ وقت ہے کہ طاقت ور ادارے کمزور کی زبان سمجھیں، اور قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہو کہ خوف کی جڑ کاٹ دے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خبر کو صرف پڑھیں نہیں، اس کے سامنے کھڑے ہوں۔

اگر آج ہم نے سوال نہ کیا، اگر آج ہم نے انسانی وقار کو مرکز نہ بنایا، تو کل شہر اور بڑے ہوں گے—اور سائے اور گہرے۔
الف نیوز سمجھتا ہے کہ ریاست کی اصل کامیابی اعداد میں نہیں، انسان کی واپسی میں ناپی جاتی ہے۔



Editorial

When Cities Fall Silent and People Go Missing

The streets of the capital are still lit, yet somewhere within that glow, a shadow has disappeared. A daughter, a mother, a brother — reduced to numbers on paper, but in reality, living questions knocking endlessly on the doors of waiting homes.

Reports of missing persons are no longer fleeting headlines. They are moral alarms ringing within our collective conscience. The question is not which party accused whom, or which government defended itself better. The real question is this: where does the responsibility of the State rest, and where does human dignity vanish?

When debates in the corridors of power turn loud, while fear in the streets grows silent, the crisis ceases to be merely administrative. It becomes ethical. A crisis where women’s safety is reduced to a promise, and public trust is filed away as paperwork.

Police data may attempt reassurance, but numbers do not wipe tears. An “update” cannot replace a son’s return for a mother. A press briefing cannot guarantee safety to a father awaiting his daughter. And politics alone cannot comfort a city that seeks justice — visible, tangible, and humane.

This moment demands more than blame games. It calls for accountability, transparency, and immediate action. It calls for institutions strong enough to hear the voice of the vulnerable, and laws firm enough to uproot fear at its source. It calls for citizens not merely to read the news, but to stand before it.

If we fail to question today, if we fail to place human dignity at the centre of governance, tomorrow our cities will grow larger — and the shadows within them darker.

Alif News believes that the true measure of a State is not found in statistics, but in the safe return of its people.


اگر آپ چاہیں تو میں:

  • اسے زیادہ سخت (hard-hitting) ایڈیٹوریل میں بدل دوں
  • یا بین الاقوامی قارئین کے لیے قدرے مختلف لہجے میں ری رائٹ کروں
  • یا مختصر Op-Ed / Column ورژن بھی تیار کر دوں

جیسا حکم ہو، رفیقِ گفتگو۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading