اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر مسلسل حملوں کے خلاف دہلی میں عوامی سماعت
نئی دہلی — 3 فروری 2026 کو ملک کے ضمیر نے ایک بار پھر سوال اٹھایا۔ Indian Muslim for Civil Rights (IMCR) اور Association for Protection of Civil Rights (APCR) کے اشتراک سے Constitution Club of India میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر بار بار ہونے والے حملوں کے خلاف ایک مؤثر عوامی سماعت منعقد ہوئی۔
دوپہر 3 بجے شروع ہونے والی اس سماعت میں ملک بھر سے آئے ہوئے دانش وروں، سابق ججوں، سابق وزراء، ارکانِ پارلیمان، سینئر وکلاء، صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ اجتماع کی فضا میں درد بھی تھا اور آئین سے وابستہ امید بھی—یہ احساس کہ عبادت کی آزادی محض ایک شق نہیں، ایک زندہ عہد ہے۔
سماعت کے دوران مختلف ریاستوں سے آئے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے متولیان نے اپنی چشم دید گواہیاں پیش کیں۔ ان بیانات میں توڑ پھوڑ، خوف و ہراس، عدمِ تحفظ اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹوں کا ذکر نمایاں رہا۔ مقررین نے کہا کہ عبادت گاہوں پر حملے صرف عمارتوں پر نہیں، ہندوستان کے آئینی وعدے پر حملے ہیں۔
اجلاس کی ایک نمایاں جھلک سکھ برادری کے اُن رہنماؤں کی پذیرائی رہی جنہوں نے مشکل اوقات میں مساجد کی حفاظت کی اور بعض مقامات پر عبادت کے لیے زمین عطیہ کی۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ انسانیت جب مذہبی حدوں سے اوپر اٹھتی ہے تو معاشرہ محفوظ ہوتا ہے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ:
- عبادت گاہوں پر حملوں کی غیرجانبدارانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں۔
- قصورواروں کے خلاف آئینی و قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
- ریاستیں عبادت کی آزادی کے تحفظ کے لیے موثر حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔
- نفرت انگیزی کے خلاف قانون کی عمل داری بلا امتیاز نافذ ہو۔
سماعت کے اختتام پر یہ پیغام ابھر کر سامنے آیا کہ خاموشی جرم کو تقویت دیتی ہے اور آئین کی حفاظت شہریوں، اداروں اور ریاست—سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دہلی کی اس نشست نے یاد دلایا کہ عبادت گاہیں اگر محفوظ ہوں گی تو معاشرہ محفوظ ہوگا، اور آئین اگر زندہ رہے گا تو امید زندہ رہے گی۔




Leave a Reply