کڈپہ | یکم فروری 2026 (راست)شاہی کنونشن ہال، کڈپہ آج اردو ادب، فنِ اداکاری اور تعلیمی تربیت کے ایک نادر امتزاج کا گواہ بنا، جہاں اسکولی طلبہ و طالبات نے تمثیلی مشاعرہ پیش کر کے روایت اور جدت کے مابین ایک خوبصورت پل قائم کیا۔ اس ادبی و فنی محفل نے نہ صرف سامعین کے ذوق کو مہمیز دی بلکہ نئی نسل میں کلاسیکی و عصری شاعری کے شعور کو تازہ دم کیا۔
اس بامعنی مشاعرے کے محرک و منتظم سید قدرت اللہ (موظف نائب قونصل، وزارتِ خارجہ) اور قومی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی، کڈپہ رہے۔ پروفیسر قاسم علی خان کی سرپرستی میں، جمشید علی خان اور عبدالقدیر پرویز کی ہدایت کاری کے تحت “اردو طلبہ و طالبات کے ادبی و فنی جوہر کا منظرنامہ” کے عنوان سے اکیسویں صدی کے مقبول شعرا و شاعرات کے منتخب و نمائندہ کلام پر مبنی یہ تمثیلی مشاعرہ منعقد ہوا۔
محفل کا آغاز سید وفی اللہ بختیاری کے پُراثر استقبالیہ و تعارف سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض صفدر علی خان نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ صدارت کی ذمہ داری ڈاکٹر راحت اندوری کے روپ میں سورج پاترا نے سنبھالی—اور اسی نکتے نے اس مشاعرے کو اپنی نوعیت میں منفرد بنا دیا۔ طلبہ و طالبات نے اصل شعرا کے کلام کے ساتھ ان کے رنگ، آہنگ، اندازِ ادا اور اسٹیج پیشکش کی ایسی کامیاب نقالی کی کہ سامعین لمحہ بہ لمحہ محظوظ ہوتے رہے۔
تمثیلی مشاعرے کے شرکا (شاعر — اداکار طالبِ علم):
مہمان شعرا:
منور رانا (سید فیض اللہ)
ندا فاضلی (شیخ محمد فہیم)
وسیم بریلوی (شیخ محمد عادل)
منظر بھوپالی (ایس ایم اسد سبحان)
راہی بستوی (شیخ ایان قریشی)
اقبال اشہر (سید قدیر)
عمران پرتاپ گڑھی (شیخ محمد فاضل)
عزم شاکری (سید محمد حسین)
مہمان شاعرات:
انجم رہبر (ایس حفیظہ)
لتا حیا (ایس یاسمین)
نزہت انجم (پٹھان امرین خان)
صبا بلرام پوری (شیخ سمیرہ)
شبینہ ادیب (سید نگینہ)
نکہت امروہی (لبنیٰ اختر)
میزبان شاعر:
برق کڈپوی (شیخ ہارون باشا
یہ امر قابلِ تحسین رہا کہ طلبہ و طالبات نے اصل شعرا کے میک اپ اور نشست و برخاست کے آداب کے ساتھ شہہ نشین پر جلوہ گر ہو کر کلام پیش کیا، جس سے تمثیل اور تخلیق کا حسین امتزاج سامنے آیا۔ نظامت میں صفدر علی خان کی گرفت نے محفل کو آغاز سے اختتام تک باندھے رکھا۔
فیصلہ سازی کے لیے پانچ رکنی جیوری—پروفیسر محمد نثار احمد، پروفیسر وصی اللہ بختیاری عمری، ڈاکٹر شازیہ بیگم، محترمہ فرزانہ بیگم اور سید قدرت اللہ—نے متعینہ پیمانے پر پیشکشوں کا جائزہ لیا۔ نتائج کی بنیاد پر اول، دوم اور سوم انعامات تقسیم کیے گئے، تاہم شریکِ مشاعرہ تمام طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے سبھی کو رقمی انعامات، اسناد اور یادگاری مومنٹو پیش کیے گئے۔
اختتام پر ججوں کے تاثرات نے اس تعلیمی و ادبی کاوش کی افادیت پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔ عبدالغفور جانی اور دیگر معززین کے ہاتھوں انعامات و اسناد تقسیم ہوئیں۔ بعد ازاں سید قدرت اللہ نے عبدالغفور جانی اور پروفیسر قاسم علی خان کی شال پوشی کی، جب کہ سید ہدایت اللہ کے ہمراہ ججوں اور منتظمین کی تہنیت و شال پوشی عمل میں آئی۔ اس موقع پر سید شفاعت اللہ، سید حشمت اللہ، محمد اعظم شاہی، قدیر پرویز، جمشید علی خان، سید کاشف اور تمثیلی مشاعرہ کمیٹی کے اراکین کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
آخر میں محمد عبد القیوم صادق کے ہدیۂ تشکر کے ساتھ یہ یادگار محفل اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد پُرتکلف ظہرانے نے اس ادبی جشن کو خوشگوار یادوں میں بدل دیا۔یہ تمثیلی مشاعرہ کڈپہ میں اردو کی تدریسی و ثقافتی روایت کے روشن مستقبل کی نوید بن کر سامنے آیا۔





Leave a Reply