ناکام این ڈی اے دباؤ اور بلیک میلنگ کے تحت بحال کی گئی: وزیر اعلیٰ تمل ناڈو ایم کے اسٹالن
تنجاؤر | 26 جنوری 2026
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حالیہ بحالی کو ایک مصنوعی اور نمائشی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتحاد کسی نظریاتی ہم آہنگی کا نتیجہ نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی ایجنسیوں کے دباؤ اور بلیک میلنگ کے تحت وجود میں آیا ہے۔
تھن جاؤر میں منعقد ہونے والی ’ویلم تملژ پینگال‘ — ڈیلٹا زون سطح کی ڈی ایم کے خواتین ونگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اسٹالن نے کہا کہ این ڈی اے اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہے، اور اب اسے نئے نام و لیبل کے ساتھ دوبارہ پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:
“یہ اتحاد تازہ دم نہیں، بلکہ ایک شکست خوردہ ڈھانچے پر نیا رنگ روغن ہے۔ کئی جماعتیں اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مرکزی ایجنسیوں کے خوف کے تحت این ڈی اے میں شامل ہوئی ہیں۔”
وزیر اعلیٰ اسٹالن نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت دباؤ، خوف اور طاقت کے بل پر نہیں بلکہ عوامی اعتماد، شفافیت اور اصولی سیاست سے مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے ڈی ایم کے خواتین ونگ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کی سیاسی بیداری ہی تمل ناڈو کی جمہوری طاقت کی اصل بنیاد ہے۔
الف نیوز تجزیہ
این ڈی اے کی بحالی پر اٹھنے والے سوالات محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ہندوستانی سیاست میں اداروں کے استعمال، اتحادوں کی اخلاقیات اور جمہوری اقدار پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہیں۔
جب اتحاد نظریے کے بجائے مجبوری سے بنتے ہوں، تو وہ اقتدار تو پا سکتے ہیں، اعتماد نہیں۔
الف نیوز
خبر نہیں، ضمیر کی آواز





Leave a Reply