الف نیوز شمارہ نمبر: 105 ؛ تاریخ: 27 جنوری 2025؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
آج کی سرخیاں چیختی نہیں، سسکتی ہیں۔
کہیں اتحاد بحال ہو رہے ہیں، کہیں اصول دفن کیے جا رہے ہیں،
کہیں اقتدار کی خاطر نظریات کو وقتی سہارا بنا لیا گیا ہے،
اور کہیں خوف کو سیاست کا نیا نام دے دیا گیا ہے۔
جمہوریت کا حسن اختلاف میں تھا،
لیکن آج اختلاف کو جرم سمجھا جا رہا ہے۔
آج اتحاد دلیل سے نہیں، مجبوری سے وجود میں آ رہے ہیں،
اور سیاست مکالمے سے نہیں، طاقت کے اشاروں سے چل رہی ہے۔
تمل ناڈو سے اُٹھنے والی آواز محض ایک ریاست کی بات نہیں،
یہ اس پورے نظام کا نوحہ ہے
جہاں سیاسی شراکت داری رضامندی کے بجائے
تحقیقات، فائلوں اور خوف کے سائے میں تشکیل پاتی ہے۔
ادارے اگر غیر جانبدار نہ رہیں
تو انصاف کمزور ہو جاتا ہے،
اور جب انصاف کمزور پڑ جائے
تو جمہوریت صرف ایک آئینی اصطلاح بن کر رہ جاتی ہے۔
خواتین کی کانفرنس میں کہی گئی باتیں
اس لیے بھی اہم ہیں کہ
جب سماج کی نصف آبادی سیاست کے اخلاقی زوال پر سوال اٹھائے
تو اسے محض سیاسی بیان نہیں کہا جا سکتا،
یہ ضمیر کی بیداری ہوتی ہے۔
آج کا ہندوستان صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں پہچانا جائے گا،
بلکہ اس بات سے پہچانا جائے گا
کہ اس نے اختلاف کو کتنا برداشت کیا،
سچ کو کتنا سنا
اور طاقت کو کتنی حد تک روکا۔
اتحاد اگر خوف سے بنیں
تو وہ اقتدار تو دلا سکتے ہیں،
مگر تاریخ میں عزت نہیں دلا سکتے۔
الف نیوز یہ سمجھتا ہے کہ
ملک کو آج نعروں کی نہیں،
اعتماد کی سیاست کی ضرورت ہے؛
جہاں اختلاف غداری نہ ہو
اور سوال جرم نہ بنے۔
کیونکہ
جب سیاست دباؤ بن جائے
تو جمہوریت سانس تو لیتی ہے
مگر زندہ نہیں رہتی۔





Leave a Reply