25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
خصوصی مضمون

عالمی ضمیر کی آزمائش — ایران سے دنیا تک پھیلا ہوا سوال

خصوصی فیچر سیّد اکبر زاہد

دنیا کے نقشے پر اس وقت جو لرزش دکھائی دے رہی ہے، وہ کسی ایک ملک یا ایک خطے تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسے اضطراب کی علامت ہے جو خاموشی سے سرحدیں عبور کرتا ہے، معاشروں کو تقسیم کرتا ہے اور ریاستی خودمختاری کے سوال کو پھر سے زندہ کر دیتا ہے۔ ایران کے موجودہ حالات اسی اضطراب کی ایک کڑی کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں—جہاں احتجاج، ہڑتالیں اور ریاستی ردِعمل ایک پیچیدہ سیاسی بیانیے میں بدل چکے ہیں۔

یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے—اور شدت کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے—کہ کیا یہ اندرونی بے چینی محض داخلی عوامل کا نتیجہ ہے، یا اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کے وہ مفادات ہیں جو برسوں سے مشرقِ وسطیٰ میں اثرورسوخ بڑھانے کی جستجو میں ہیں؟ ناقدین کے مطابق بعض ہڑتالیں اور احتجاج ایک ایسے بیانیے سے جُڑے دکھائی دیتے ہیں جس کا مقصد اسلامی طرزِ حکومت کو کمزور کر کے اقتدار کو کسی ایسے چہرے کے حوالے کرنا ہے جو بیرونی طاقتوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اس بیانیے میں شاہِ ایران کے بیٹے کا نام بھی لیا جاتا ہے—مگر یہ دعوے خود کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں: ثبوت کیا ہیں؟ مفادات کن کے ہیں؟ اور نقصان کس کا؟

یہاں اصل سوال فرد یا خاندان کا نہیں، اصول کا ہے۔ کیا کسی خودمختار ملک کے سیاسی مستقبل کو بیرونی دباؤ، پابندیوں، یا پراکسی سیاست کے ذریعے موڑا جانا انسانیت کے نام پر درست ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اگر جمہوریت کا دعویٰ ہے تو اس کی تعریف کون کرے گا—عوام یا طاقت؟

اسی تناظر میں اسرائیل کی خطے میں حکمتِ عملی پر بھی عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ ناقدین سمجھتے ہیں کہ بعض اقدامات کا مقصد اسلامی ممالک کو یا تو اندر سے کمزور کرنا ہے یا انہیں کسی نہ کسی شکل میں اپنے کنٹرول کے دائرے میں لانا۔ دوسری طرف امریکہ کی خارجہ پالیسی بھی اکثر اسی تنقید کی زد میں رہتی ہے—جہاں پابندیاں، سیاسی دباؤ اور بیانیاتی جنگ کو سفارت کاری کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

لاطینی امریکہ کی مثال لیجیے۔ وینیزویلا میں صدر اور ان کی اہلیہ کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگیاں، اقتدار پر دباؤ اور ریاستی خودمختاری کے سوال—یہ سب اس بڑے منظرنامے کا حصہ دکھائی دیتے ہیں جہاں “جمہوریت” کے نام پر حکومتوں کو بلیک میل کرنے کے الزامات سامنے آتے ہیں۔ اگر کسی ریاستی قیادت کو دباؤ میں لا کر فیصلے کروائے جائیں، تو کیا یہ اغوا کی نرم شکل نہیں؟

آج ذرا گرد و پیش پر نظر ڈالیں۔ کتنے ممالک ایسے ہیں جہاں جنگ براہِ راست جاری ہے، اور کتنے وہ ہیں جہاں معاشی، اطلاعاتی یا سیاسی محاذ پر لڑائی لڑی جا رہی ہے؟ یوکرین سے غزہ تک، افریقہ کے بعض حصوں سے ایشیا تک—کیا یہ کہنا بے جا ہے کہ دنیا ایک undeclared third world war کی گرفت میں ہے؟ ایک ایسی جنگ جو بیک وقت بندوق، بیانیہ، پابندی اور خوف کے ہتھیاروں سے لڑی جا رہی ہے۔

یہ فیچر کسی ایک بیانیے کو حتمی سچ قرار دینے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ یہ محض عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر طاقت ہی حق کا معیار بن جائے، تو انسانیت کہاں جائے گی؟ اگر ریاستیں شطرنج کے مہرے بن جائیں، تو امن کس کی ذمہ داری ہو گی؟

الف نیوز کا موقف واضح ہے: دنیا کو مزید محاذ آرائی نہیں، مکالمہ چاہیے؛ مزید پابندیاں نہیں، انصاف چاہیے؛ مزید پراکسی جنگیں نہیں، عوام کی خودمختار آواز چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے—جب طاقت نے اخلاق کو روند ڈالا، تو انجام ہمیشہ انسانیت کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔

A Trial of the Global Conscience — From Iran to a World on Edge

Special Feature by Syed Akbar Zahid

The tremors visible on today’s world map are not confined to one nation or one region. They signal a deeper unease—one that quietly crosses borders, fractures societies, and reopens the fundamental question of state sovereignty. The current situation in Iran is increasingly being viewed as part of this wider disturbance, where strikes, protests, and state responses have merged into a complex and highly charged political narrative.

A pressing question echoes across analytical circles: are these developments purely the result of internal dynamics, or do they reflect the strategic interests of global powers long invested in reshaping the Middle East? Critics argue that certain strikes and protest movements appear aligned with an external agenda—one aimed at weakening an Islamic system of governance and replacing it with leadership more palatable to foreign interests. Within this discourse, the name of the former Shah’s son is often mentioned. Yet such claims demand sober scrutiny: where is the evidence, whose interests are being served, and who ultimately bears the cost?

At its core, this is not about individuals or dynasties—it is about principle. Can the political future of a sovereign nation be engineered through sanctions, covert pressure, or proxy politics and still be justified in the name of humanity or democracy? And if democracy is the stated goal, who defines it—the people themselves, or distant centers of power?

In this context, the regional strategy of Israel is also under growing global debate. Critics contend that certain policies seek either to systematically weaken Islamic countries or to draw them gradually into a sphere of control. Parallel criticism is directed at the foreign policy of the United States, where sanctions, diplomatic pressure, and narrative warfare are frequently viewed as substitutes for genuine dialogue.

The lens widens further when we look toward Latin America. Events surrounding Venezuela—political coercion, pressure on its leadership, and sustained attempts to delegitimize its government—raise unsettling questions about sovereignty in the modern world. If a nation’s leadership can be cornered through economic strangulation and political blackmail, does this not resemble a softer, more sophisticated form of abduction?

Survey the global landscape today. How many countries are directly at war, and how many more are engaged in economic, informational, or political conflict? From Eastern Europe to Gaza, from parts of Africa to Asia, one cannot ignore the growing perception that the world is already trapped in an undeclared Third World War—a war waged simultaneously with weapons, sanctions, narratives, and fear.

This feature does not claim monopoly over truth, nor does it present a single narrative as absolute. Its purpose is to awaken the global conscience. When power becomes the sole measure of right, where does humanity stand? When nations are reduced to pawns on a geopolitical chessboard, who assumes responsibility for peace?

Alif News holds a clear position: the world does not need more confrontation, but dialogue; not more sanctions, but justice; not more proxy wars, but respect for the sovereign will of peoples. History bears witness—whenever power trampled morality, humanity paid the heaviest price.

One response to “خصوصی مضمون”

  1. Mohamed Haneef Katib Avatar

    آپ کی طرز تحریر منفرد ہے اور جسے پڑھ کر دل سے واہ نکلتی ہے۔ سلامت رہیں ۔

    1. Akbar Zahid Avatar

      شکریہ محترم محمد حنیف کاتب صاحب۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading