25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
سپریم۔کورٹ میں آئینی جنگ


اداروں کا تصادم، سیاست کا امتحان

ممتا حکومت اور ای ڈی آمنے سامنے، سپریم کورٹ میں آئینی جنگ

نئی دہلی | الف نیوز

مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ Mamata Banerjee کی حکومت اور مرکزی تحقیقاتی ادارہ Enforcement Directorate ایک سنگین آئینی اور سیاسی تصادم کی طرف بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ مبینہ کول اسمگلنگ معاملے میں ریاستی مداخلت کے الزام پر ای ڈی نے براہِ راست Supreme Court of India کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

ای ڈی نے اپنی عرضی میں الزام عائد کیا ہے کہ بنگال حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور پولیس کی موجودگی میں، سیاسی مشاورتی ادارے Indian Political Action Committee (I-PAC) کے ڈائریکٹر پرتیک جین کی رہائش گاہ پر جاری تلاشی کے دوران اہم دستاویزات اور الیکٹرانک آلات زبردستی ہٹا دیے گئے، جس سے تفتیش کی شفافیت متاثر ہوئی۔

تحقیقاتی ایجنسی کا مؤقف ہے کہ ریاستی مشینری کی اس مداخلت نے اس کے آزادانہ اور منصفانہ تفتیش کے حق کو مجروح کیا ہے۔ اسی بنیاد پر ای ڈی نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی جانچ Central Bureau of Investigation (CBI) کے سپرد کی جائے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب I-PAC، وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت All India Trinamool Congress کی انتخابی حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے، اور ریاست میں اپریل تک انتخابات متوقع ہیں۔

ممتا بنرجی کا جوابی وار

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے ای ڈی کی کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے، دو مختلف تھانوں میں شکایات درج کرائیں، جبکہ ریاستی پولیس نے ازخود (سُو موٹو) مقدمہ بھی قائم کیا۔ بنگال حکومت نے سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کر کے مؤقف اپنایا ہے کہ اس کے بغیر سنے کوئی فیصلہ نہ دیا جائے۔

گزشتہ روز ممتا بنرجی نے کولکتہ کی سڑکوں پر ایک بڑے احتجاجی مارچ کی قیادت کی، اور الزام لگایا کہ Bharatiya Janata Party کی قیادت والی مرکزی حکومت، مرکزی ایجنسیوں کو استعمال کر کے ترنمول کانگریس کی انتخابی حکمتِ عملی پر وار کر رہی ہے۔

یوں یہ ٹکراؤ اب صرف عدالتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ عوامی سڑکوں اور سیاسی بیانیے کا حصہ بن چکا ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی ای ڈی کی کارروائی سے متعلق عرضیوں کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

294 نشستوں پر مشتمل بنگال اسمبلی کے پس منظر میں یہ معرکہ، آئین، اداروں اور سیاست—تینوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔


Institutions at Crossroads: Bengal Government and ED Lock Horns in Supreme Court

New Delhi | Alif News

A serious constitutional and political confrontation is unfolding between the West Bengal government led by Mamata Banerjee and the Enforcement Directorate, with the central agency approaching the Supreme Court of India alleging state interference in its investigation into an alleged coal smuggling case.

In its petition, the ED claimed that during searches at the residence of Pratik Jain, director of political consultancy firm Indian Political Action Committee (I-PAC), physical documents and electronic devices were forcibly removed in the presence of senior state officials and police personnel, thereby compromising the integrity of the probe.

Invoking Article 32 of the Constitution, the ED argued that its right to conduct a fair and independent investigation had been curtailed by the state machinery. It has urged the apex court to hand over the inquiry into these events to the Central Bureau of Investigation (CBI).

The dispute has gained political significance as I-PAC is currently engaged in crafting the election strategy for the ruling All India Trinamool Congress, ahead of the state elections expected by April.

Banerjee Strikes Back

Chief Minister Mamata Banerjee has hit back strongly, filing complaints at two police stations against the ED’s actions, while the state police registered a suo moto case. The Bengal government has also filed a caveat in the Supreme Court, asserting that no order should be passed without hearing its side.

On the streets of Kolkata, Banerjee led a massive protest march, accusing the BJP-led Centre of misusing central agencies to undermine her party’s election preparations. By turning the ED action into a show of political mobilisation, she signalled that the battle would be fought not only in courtrooms but also in public spaces.

Meanwhile, the Calcutta High Court has adjourned hearings related to the ED searches till January 14. With a 294-member state assembly at stake, the confrontation has evolved into a defining test of India’s federal structure, institutional autonomy, and democratic politics.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading