ونیزولا کی ایک بندرگاہ پر امریکی حملہ، مدورو سے رابطہ، شام پر نرمی — ٹرمپ کے متضاد دعووں سے عالمی ہلچل
واشنگٹن | خصوصی رپورٹ
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے میں ایک ایسی بندرگاہی تنصیب کو تباہ کر دیا گیا جو منشیات بردار کشتیوں کو لوڈ کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی منشیات اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر جاری مہم کا حصہ ہے، اور اس کے نتیجے میں سمندری راستوں سے ہونے والی منشیات کی ترسیل کا 97 فیصد حصہ روک دیا گیا ہے۔
اسی بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں وینزویلا کے صدر نکولس مدورو سے بات کی ہے، حالانکہ وہی مدورو پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ امریکہ میں منشیات اور پرتشدد مجرموں کو بھیج رہے ہیں، جن میں بدنام زمانہ جرائم پیشہ گروہ ٹرین ڈی اراگوا کے ارکان بھی شامل ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ سے متعلق گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے شام پر عائد بعض امریکی پابندیاں ہٹا دی ہیں تاکہ وہاں کے نئے صدر کو “ایک موقع” دیا جا سکے۔ انہوں نے شامی قیادت کو “سخت مگر مضبوط” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو دمشق کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر سکیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات طاقت، الزام اور مفاہمت کے ایک ایسے امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں جو امریکی خارجہ پالیسی میں تضادات کو نمایاں کرتا ہے۔
Strike, Sanctions and Strongmen: Trump’s Explosive Claims Shake Global Politics
Washington | Special Report
Former U.S. President Donald Trump has triggered fresh controversy with a series of dramatic claims spanning Latin America, the Middle East, and global drug trafficking routes.
Trump said a U.S. strike destroyed a dock “implementation area” allegedly used to load boats carrying narcotics. He claimed the operation was part of a wider crackdown that has stopped 97% of seaborne drug flows into the United States.
In a striking contradiction, Trump also revealed that he recently spoke with Venezuelan President Nicolás Maduro, even as he accused Maduro of sending drugs and violent criminals — including members of the Tren de Aragua gang — into the U.S.
Turning to the Middle East, Trump said he had lifted sanctions on Syria to give the country’s “tough” new president a chance. He added that he hopes Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu will be able to “get along” with Damascus.
Analysts say the remarks reflect Trump’s characteristic blend of forceful rhetoric, personal diplomacy, and abrupt policy shifts — highlighting the unpredictable nature of power politics in an increasingly volatile world.





Leave a Reply