الف نیوز شمارہ نمبر: 183 | تاریخ: 18 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
نئی دہلی — سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیرِ سماعت مسلم وراثتی قانون کا مقدمہ بظاہر ایک آئینی بحث ہے، مگر اس کی گونج محض عدالت کی دیواروں تک محدود نہیں۔ یہ گونج دلوں تک پہنچتی ہے، عقیدوں کو چھوتی ہے، اور ایک ایسا سوال اٹھاتی ہے جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں:
کیا ہم اپنے ایمان کے فیصلے عدالتوں کے حوالے کر دیں گے؟
یہ مقدمہ اس بنیاد پر کھڑا ہے کہ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کی بعض دفعات خواتین کے ساتھ امتیاز برتتی ہیں۔ آئین کے علمبردار اسے مساوات کے خلاف قرار دیتے ہیں، جبکہ عدالت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اسے برقرار رکھا جائے یا آئینی کسوٹی پر پرکھا جائے۔
مگر ایک مسلمان کے لیے یہ سوال اس سے کہیں آگے ہے۔
اسلام میں وراثت کا قانون کوئی سماجی معاہدہ یا تاریخی روایت نہیں، بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کا حکم ہے—قرآنِ مجید میں واضح، غیر مبہم اور قطعی۔ یہ وہ احکام ہیں جنہیں نہ کسی پارلیمنٹ نے بنایا، نہ کسی عدالت نے مرتب کیا۔ یہ وہ حدود ہیں جنہیں قرآن خود “حدود اللہ” کہتا ہے۔
ایسے میں اگر کوئی مسلمان ان احکام کو محض اس بنیاد پر نظر انداز کرتا ہے کہ وہ جدید مساوات کے تصور سے ہم آہنگ نہیں، تو یہ محض ایک قانونی انتخاب نہیں رہتا—یہ ایمان کی کمزوری اور خدائی احکامات سے انحراف بن جاتا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ “کون سا قانون بہتر ہے”،
بلکہ یہ ہے کہ “ہماری وفاداری کس کے ساتھ ہے؟”
البتہ اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان ایک کثیر مذہبی ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے شخصی قوانین پر عمل کرنے کی آئینی آزادی حاصل ہے۔ یہی وہ تنوع ہے جو اس ملک کی روح ہے۔ اگر ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، تو پھر کسی ایک مذہبی قانون کو آئینی پیمانے پر زبردستی بدلنے کی کوشش ایک نئے سوال کو جنم دیتی ہے:
کیا یکسانیت (uniformity) ہی انصاف ہے، یا تنوع (diversity) بھی انصاف کا حصہ ہے؟
یونیفارم سول کوڈ کا تصور اپنی جگہ ایک آئینی خواب ہو سکتا ہے، مگر ہر خواب کی تعبیر زمینی حقیقتوں سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر اس تعبیر میں عقیدے کو نظرانداز کیا جائے، تو یہ خواب ایک نئے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔
عدالت نے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اصلاح عدالت کے ذریعے آئے یا معاشرے کے اندر سے؟ مگر شاید اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ:
کیا اصلاح کا مطلب اپنی بنیادوں کو بدل دینا ہے؟
یا اپنی بنیادوں کو سمجھ کر ان کے اندر توازن پیدا کرنا ہے؟
الف نیوز کے نقطۂ نظر سے یہ مقدمہ ہمیں ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جہاں ہم اپنے دینی اصولوں کو وقتی دباؤ اور جدید بیانیوں کے تحت ڈھالنے لگیں۔ دوسرا راستہ وہ ہے جہاں ہم اپنے ایمان کو سمجھیں، اس کی حکمت کو واضح کریں، اور دنیا کے سامنے ایک باوقار مکالمہ پیش کریں۔
یہ وقت جذباتی ردعمل کا نہیں، بلکہ فکری بیداری کا ہے۔
اگر ہم نے اپنے عقیدے کو خود کمزور کر دیا،
تو کوئی اور اسے بچانے نہیں آئے گا۔
اور اگر ہم نے اسے سمجھ کر، دلیل کے ساتھ، وقار کے ساتھ پیش کیا،
تو شاید یہی مقدمہ ایک تصادم نہیں بلکہ ایک مکالمہ بن جائے۔






Leave a Reply