کرناٹک: کرناٹک میں ایک المناک سڑک حادثے نے کئی خاندانوں کو سوگ میں مبتلا کر دیا،جہاں ایک تیز رفتار کنٹینر ٹرک کے نجی سلیپر بس سے ٹکرانے کے بعد کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ حادثہ قومی شاہراہ نیشنل ہائی وے 48 پر پیش آیا، جہاں ٹکر کے فوراً بعد بس میں آگ بھڑک اٹھی اور چند ہی لمحوں میں شعلے پوری بس میں پھیل گئے۔
حادثے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں بس کو شدید آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے،جس کی کھڑکیوں اور چھت سے دھوئیں کے بادل اٹھتے رہے۔واقعے کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ سدارامیاہ نے حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جانا ضروری ہے۔
عینی شاہدین کی گواہی: چیخ و پکار اور افراتفری حادثے کے بعد عینی شاہدین نے آگ میں گھری بس سے مسافروں کو نکالنے کی کوشش کی۔حادثے میں بچ جانے والے ایک مسافر آدتیہ نے بتایاکہ بس کے اندر اچانک شعلے دیکھ کر ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔
انہوں نے کہا: ’’ہم نے شیشے توڑے اور باہر نکلنے کی کوشش کی۔لوگ چیخ رہے تھے، کچھ ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کر رہے تھےمگر آگ بہت تیزی سے پھیل رہی تھی ۔‘‘ ایک اور عینی شاہد کے مطابق کنٹینر ٹرک ڈرائیور نے ممکنہ طور پرغنودگی کے باعث گاڑی پر قابو کھو دیا اور ڈیوائیڈر عبور کر کے بس سے ٹکرا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بس میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ ایندھن یا ٹینکر میں رساؤ ہو سکتا ہے۔
پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر ریسکیو کارروائی میں مصروف رہیں، جبکہ حادثے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔




Leave a Reply