الف نیوز شمارہ نمبر: 171 | تاریخ: 6 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

اداریہ
سیّد اکبر زاہد
یہ محض ایک خبر نہیں—بلکہ انسانیت کے ضمیر پر لگا ہوا ایک گہرا زخم ہے۔
ایٹامر بن -گیور کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لیے “ڈیتھ رو” قائم کرنے کا اعلان، ایک ایسے دور کی نشاندہی کرتا ہے جہاں قانون، رحم کے بجائے سختی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ Israel کی حکومت کا سزائے موت کو منظوری دینا، محض ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ انسانی اقدار کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔
تصور کیجیے—وہ مائیں جو اپنے بیٹوں کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں، وہ بچے جو اپنے باپ کی آواز کو صرف یادوں میں سنتے ہیں، اور وہ زندان جہاں زندگی اور موت کے درمیان صرف ایک حکم نامہ حائل ہے۔
“ڈیتھ رو” کا قیام صرف ایک اصطلاح نہیں، بلکہ امید کے چراغ بجھانے کا اعلان ہے۔ یہ ایک ایسی لکیر ہے جہاں انصاف اور انتقام کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے، اور انسان محض ایک مقدمہ بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ فیصلہ ہمیں ایک تلخ سوال کے سامنے کھڑا کرتا ہے:
کیا ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سزا، انصاف پر غالب آ جائے؟
جہاں قانون، انسان کو بچانے کے بجائے اس کی آخری سانس کا فیصلہ کرے؟
یہ محض فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں—یہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔
This is not merely a news update—it is a wound upon the conscience of humanity.
The announcement by Itamar Ben-Gvir to establish a “death row” for Palestinian prisoners signals a troubling shift—where law begins to overshadow compassion. The approval of the death penalty by the Israel government is not just a legal move; it is a moral crossroads.
Imagine the silent grief of mothers waiting endlessly for sons who may never return…
Children growing up with fading memories of their fathers…
Prison walls where life hangs by the thread of a single आदेश.
“Death row” is not just a policy—it is the extinguishing of hope. It blurs the fragile line between justice and retribution, reducing human lives to case files and verdicts.
This moment forces a painful question upon us:
Are we entering an age where punishment eclipses justice?
Where the law no longer protects life—but decides its end?
This is not only a Palestinian tragedy—
it is a test of humanity itself.





Leave a Reply