الف نیوز شمارہ نمبر: 159 ; تاریخ: 24 مارچ 2026| مدیر اعلی: سید اکبر زاہد
اداریہ
سید اکبر زاہد
دنیا کی سیاست میں الفاظ کبھی کبھی گولیوں سے زیادہ تیز اور اثر انگیز ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب یہ الفاظ کسی ایسی شخصیت کی زبان سے نکلیں جو عالمی طاقت کے ایوانِ اقتدار میں بیٹھی ہو۔ Donald Trump کے ایران سے متعلق بیانات اسی نوعیت کے ہیں—جو لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے نہ صرف عالمی سیاست کو الجھا رہے ہیں بلکہ سفارتی سنجیدگی پر بھی سوالیہ نشان قائم کر رہے ہیں۔
کبھی سخت لہجہ، کبھی مفاہمت کی پیشکش، کبھی دھمکی آمیز انتباہ، اور کبھی مذاکرات کا عندیہ—یہ تضادات محض بیانات نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جس میں استحکام کی کمی واضح نظر آتی ہے۔ ایران جیسے حساس اور خوددار ملک کے حوالے سے یہ طرزِ گفتگو نہ صرف خطے میں بے یقینی کو بڑھاتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ Iran کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی امریکی صدر کے بیانات کا وزن اور اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ مگر جب یہی بیانات بار بار بدلیں، تو اعتماد کی فضا کمزور پڑ جاتی ہے۔ سفارت کاری کا اصول یہی ہے کہ الفاظ میں تسلسل اور ناپ تول ہو—کیونکہ ایک جملہ بھی جنگ یا امن کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ٹرمپ کی حکمتِ عملی کو بعض مبصرین "غیر متوقع سیاست” کا نام دیتے ہیں، جہاں اچانک فیصلے اور بیانات مخالف کو دباؤ میں رکھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی سیاست کو بھی ایک کاروباری سودے کی طرح چلایا جا سکتا ہے؟ کیا قوموں کی تقدیر کو اس قدر غیر یقینی کے حوالے کرنا دانشمندی ہے؟
اس تمام صورتِ حال میں سب سے زیادہ متاثر وہ خطے ہوتے ہیں جو پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جہاں ایک چنگاری بھی بڑے شعلے میں تبدیل ہو سکتی ہے، وہاں ایسے بیانات جلتی پر تیل کا کام کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی رہنما اپنے الفاظ کی ذمہ داری کو سمجھیں اور بیانات کو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل مدتی امن کے تناظر میں دیکھیں۔
یہ اداریہ کسی ایک شخصیت کی تنقید نہیں بلکہ اس رجحان کی نشاندہی ہے جہاں طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ الفاظ کے وزن کو بھول جاتے ہیں۔ دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے سنجیدگی، تسلسل اور ذمہ دارانہ قیادت—نہ کہ ایسے بیانات جو ہر لمحہ نئی تشویش کو جنم دیں۔
آخر میں سوال یہی ہے:
کیا عالمی قیادت کو اب بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ بدلتے بیانات، بدلتی دنیا کو مزید غیر مستحکم بنا رہے ہیں؟




Leave a Reply