25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
بدلتے بیانات، بدلتی دنیا — ٹرمپ اور ایران کا بیانیہ

الف نیوز شمارہ نمبر: 159 ; تاریخ: 24 مارچ 2026| مدیر اعلی: سید اکبر زاہد

اداریہ

سید اکبر زاہد

دنیا کی سیاست میں الفاظ کبھی کبھی گولیوں سے زیادہ تیز اور اثر انگیز ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب یہ الفاظ کسی ایسی شخصیت کی زبان سے نکلیں جو عالمی طاقت کے ایوانِ اقتدار میں بیٹھی ہو۔ Donald Trump کے ایران سے متعلق بیانات اسی نوعیت کے ہیں—جو لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے نہ صرف عالمی سیاست کو الجھا رہے ہیں بلکہ سفارتی سنجیدگی پر بھی سوالیہ نشان قائم کر رہے ہیں۔

کبھی سخت لہجہ، کبھی مفاہمت کی پیشکش، کبھی دھمکی آمیز انتباہ، اور کبھی مذاکرات کا عندیہ—یہ تضادات محض بیانات نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جس میں استحکام کی کمی واضح نظر آتی ہے۔ ایران جیسے حساس اور خوددار ملک کے حوالے سے یہ طرزِ گفتگو نہ صرف خطے میں بے یقینی کو بڑھاتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ Iran کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی امریکی صدر کے بیانات کا وزن اور اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ مگر جب یہی بیانات بار بار بدلیں، تو اعتماد کی فضا کمزور پڑ جاتی ہے۔ سفارت کاری کا اصول یہی ہے کہ الفاظ میں تسلسل اور ناپ تول ہو—کیونکہ ایک جملہ بھی جنگ یا امن کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

ٹرمپ کی حکمتِ عملی کو بعض مبصرین "غیر متوقع سیاست” کا نام دیتے ہیں، جہاں اچانک فیصلے اور بیانات مخالف کو دباؤ میں رکھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی سیاست کو بھی ایک کاروباری سودے کی طرح چلایا جا سکتا ہے؟ کیا قوموں کی تقدیر کو اس قدر غیر یقینی کے حوالے کرنا دانشمندی ہے؟

اس تمام صورتِ حال میں سب سے زیادہ متاثر وہ خطے ہوتے ہیں جو پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جہاں ایک چنگاری بھی بڑے شعلے میں تبدیل ہو سکتی ہے، وہاں ایسے بیانات جلتی پر تیل کا کام کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی رہنما اپنے الفاظ کی ذمہ داری کو سمجھیں اور بیانات کو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل مدتی امن کے تناظر میں دیکھیں۔

یہ اداریہ کسی ایک شخصیت کی تنقید نہیں بلکہ اس رجحان کی نشاندہی ہے جہاں طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ الفاظ کے وزن کو بھول جاتے ہیں۔ دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے سنجیدگی، تسلسل اور ذمہ دارانہ قیادت—نہ کہ ایسے بیانات جو ہر لمحہ نئی تشویش کو جنم دیں۔

آخر میں سوال یہی ہے:
کیا عالمی قیادت کو اب بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ بدلتے بیانات، بدلتی دنیا کو مزید غیر مستحکم بنا رہے ہیں؟

Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
مارچ 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading