الف نیوز شمارہ نمبر: 156؛ تاریخ 21 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
دنیا کے کئی خطوں میں آج عید الفطر کا چاند ایسے آسمان پر طلوع ہو رہا ہے جہاں بارود کی بو رچی ہوئی ہے، جہاں فضاؤں میں تکبیر کی آوازوں کے ساتھ دھماکوں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے، اور جہاں خوشیوں کے لباس پر آنسوؤں کے دھبے نمایاں ہیں۔
یہ کیسی عید ہے…؟
کہ کہیں ماؤں کی گودیں خالی ہیں، کہیں بچوں کے ہاتھوں میں کھلونوں کی جگہ خوف ہے، اور کہیں سجدوں کے درمیان زندگی اور موت کا فاصلہ مٹتا جا رہا ہے۔
عید الفطر محض ایک تہوار نہیں، بلکہ عبادت کا تسلسل ہے۔ تیس دن کے روزوں کے بعد یہ دن اللہ کی طرف سے انعام ہے—ایک ایسا انعام جو صبر، تقویٰ اور بندگی کے بعد عطا ہوتا ہے۔ مگر آج جب امتِ مسلمہ کے ایک بڑے حصے پر آزمائشوں کے بادل چھائے ہوئے ہیں، تو یہ عید ہمیں صرف خوشی منانے کا نہیں، بلکہ احساس کرنے کا بھی پیغام دیتی ہے۔
اسلام نے عید کی خوشیوں کو صرف صاحبِ استطاعت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ صدقۂ فطر کے ذریعے ہر فرد کو اس خوشی میں شریک کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم دراصل ایک سماجی انقلاب ہے—کہ کوئی بھوکا نہ رہے، کوئی محروم نہ ہو، اور کوئی ایسا نہ ہو جو عید کے دن خود کو تنہا محسوس کرے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس حکم کی روح کو سمجھا…؟
کیا ہمارے اردگرد کوئی ایسا نہیں جو آج بھی عید کے دن اپنی محرومیوں کے ساتھ جینے پر مجبور ہو؟
آج جب ہم اپنے گھروں کو سجاتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں، اور دسترخوانوں کو نعمتوں سے بھر دیتے ہیں، تو ہمیں اُن چہروں کو بھی یاد رکھنا ہوگا جو ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے عید کا چاند دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں اُن آنکھوں کو بھی محسوس کرنا ہوگا جن میں خوشی کی جگہ انتظار ہے—کسی مددگار ہاتھ کا انتظار۔
یہ عید ہمیں جھنجھوڑنے آئی ہے—
یہ ہمیں یاد دلانے آئی ہے کہ عبادت صرف سجدوں میں نہیں، بلکہ انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے میں بھی ہے۔
آئیے، اس عید کو محض رسم نہ بنائیں، بلکہ ایک عہد بنائیں:
کہ ہم اپنے حصے کی روشنی بانٹیں گے،
کہ ہم اپنے آس پاس کے اندھیروں کو کم کریں گے،
اور کہ ہم اس امت کے درد کو اپنا درد سمجھیں گے۔
کیونکہ عید کی اصل خوشی اسی میں ہے کہ کوئی دل نہ ٹوٹے،
کوئی آنکھ نہ روئے،
اور کوئی انسان خود کو تنہا نہ سمجھے۔
عید مبارک — مگر اس احساس کے ساتھ کہ ہماری خوشی دوسروں کے دکھ کو کم کرنے کا ذریعہ بنے۔




Leave a Reply