الف نیوز شمارہ نمبر 148؛ تاریخ: 12 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
جمہوریت کی عمارت صرف انتخابات سے قائم نہیں رہتی، بلکہ اس کے ستون وہ ادارے ہوتے ہیں جو اختیار اور احتساب کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ انہی ستونوں میں سے ایک ہے، اور اس پارلیمنٹ میں اسپیکر کی کرسی ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے انصاف، تحمل اور غیر جانبداری کی روشنی پورے ایوان میں پھیلنی چاہیے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب اسپیکر اپنی کرسی کو محض انتظامی منصب نہیں بلکہ ایک امانت سمجھتا ہے تو ایوان میں اختلاف بھی شائستگی کے ساتھ سنا جاتا ہے اور جمہوریت کی روح مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن جب کبھی یہ احساس کمزور پڑنے لگے تو ایوان میں پیدا ہونے والی بے چینی صرف سیاسی شور نہیں رہتی بلکہ ایک علامت بن جاتی ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ میں حالیہ واقعات نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ ایوان کی غیر جانبداری کس حد تک محسوس کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی بے چینی اور حکومت کا دفاع — دونوں اپنی جگہ سیاسی حقیقتیں ہیں، مگر اصل اہمیت اس اعتماد کی ہے جو پورا ایوان اسپیکر کی کرسی پر محسوس کرے۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اس میں اختلاف بھی ایک آئینی زبان میں ادا ہوتا ہے۔ اگر کسی فریق کو یہ احساس ہونے لگے کہ توازن جھک رہا ہے تو شور بڑھ جاتا ہے اور اعتماد کم ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اسپیکر کی کرسی کو محض قانون کی نہیں بلکہ اخلاقی اختیار کی علامت بن کر سامنے آنا پڑتا ہے۔
پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہر رکن کے پیچھے لاکھوں شہریوں کی آواز ہوتی ہے۔ اس لیے اسپیکر کی ذمہ داری صرف ایوان کو چلانا نہیں بلکہ یہ یقین دلانا بھی ہے کہ ہر آواز کو برابر کا موقع ملے۔
جمہوریت کی اصل طاقت اسی یقین میں پوشیدہ ہے۔ جب یہ یقین مضبوط ہو تو ایوان کی دیواروں میں بھی اعتماد کی گونج سنائی دیتی ہے، اور جب یہ یقین متزلزل ہو تو شور کے باوجود ایک خاموش سوال فضا میں معلق رہ جاتا ہے۔
اور شاید جمہوریت کے لیے سب سے ضروری یہی ہے کہ اس سوال کو سن لیا جائے۔





Leave a Reply