25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
آبنائے ہرمز — امن کی گزرگاہ یا جنگ کی دہلیز؟

الف نیوز شمارہ نمبر: 147؛ تاریخ: 11 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلیٰ: سیّد اکبر زاہد


اداریہ

سیّد اکبر زاہد

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں آبنائے ہرمز ہمیشہ ایک جغرافیائی راستہ ہی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کا سنگم رہی ہے۔ آج جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنی خطرناک ترین سطح تک پہنچ چکی ہے تو یہی تنگ سمندری راستہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ گیا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے جواب میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کی گزرگاہ بنے گی یا پھر جنگ چھیڑنے والوں کے لیے شکست اور تباہی کا راستہ۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکہ اسے پہلے سے بیس گنا زیادہ شدت سے نشانہ بنائے گا اور ایسی تباہی نازل کرے گا کہ ایران کے لیے دوبارہ بطور ریاست کھڑا ہونا بھی مشکل ہو جائے گا۔

یہ محض الفاظ کی جنگ نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے اور عالمی مائع قدرتی گیس (LNG) کی تقریباً ۲۰ فیصد تجارت بھی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سمندری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے۔

اگر طاقت کی سیاست اسی طرح جاری رہی تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ ایک دن واقعی “آبنائے شکست” بن جائے گی؟

تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کے نشے میں دی گئی دھمکیاں اکثر انسانیت کو ایسے زخم دے جاتی ہیں جو صدیوں تک نہیں بھرتے۔ عالمی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے عقل و حکمت کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ جنگ کا انجام ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے — چاہے وہ فاتح کے لیے ہو یا مفتوح کے لیے۔

آبنائے ہرمز آج بھی دنیا کے لیے ایک امتحان ہے:
کیا یہ راستہ امن کی شاہراہ بنے گا یا انسانیت کی ایک اور خون آلود داستان؟


EDITORIAL

SYED AKBAR ZAHID

Strait of Hormuz — Passage of Peace or Gateway to War?

The Strait of Hormuz has never been merely a narrow waterway in the geography of the Middle East. It is a strategic artery of the global economy and a crossroads where the interests of world powers converge. Today, as tensions escalate between the United States, Israel, and Iran, this narrow maritime passage has once again become the focal point of global attention.

Iran’s Supreme National Security Council Secretary Ali Larijani responded to a stern warning from U.S. President Donald Trump, declaring that the Strait of Hormuz would either remain a strait of peace and prosperity for all nations or become a strait of defeat and suffering for warmongers.

Earlier, President Trump warned that if Iran attempted to block the flow of oil through the Strait of Hormuz, the United States would strike Iran twenty times harder than before and target sites whose destruction could make it nearly impossible for Iran to rebuild itself as a nation.

This exchange is not merely rhetorical.
Approximately 20–21 million barrels of oil pass through the Strait of Hormuz every day, and nearly 20 percent of global LNG trade also flows through this narrow maritime corridor. Any disruption here would not only destabilize the Middle East but could send shockwaves across the entire global economy.

In such circumstances, a troubling question emerges:
Could the world’s most important oil corridor truly turn into a “Strait of Defeat”?

History repeatedly reminds humanity that threats born from the intoxication of power often leave scars that last for generations. The responsibility of global leadership today is not to amplify the drums of war but to seek wisdom, restraint, and diplomacy.

For the world now stands at a delicate crossroads.
The Strait of Hormuz can either remain a highway of peace and global cooperation — or become yet another tragic chapter in the long and painful history of human conflict.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
مارچ 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading