25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
کیا سوال کرنا خطرناک ہے؟ — جمہوریت کا اصل امتحان

الف نیوز شمارہ نمبر: 129; تاریخ: 20 فروری 2026: مدیرِ اعلیٰ: سیّد اکبر زاہد


اداریہ

سیّد اکبر زاہد

ہندوستانی سیاست میں حالیہ دنوں ایک نیا تنازعہ ابھرا ہے۔ حکمراں جماعت کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے اپوزیشن لیڈر Rahul Gandhi کو “سب سے خطرناک شخص” قرار دیا۔ یہ بیان محض سیاسی اختلاف کا اظہار نہیں بلکہ ہمارے جمہوری مزاج کا آئینہ بھی ہے۔

راہل گاندھی نے بعض اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث آنے والی بعض دستاویزات میں چند بااثر نام سامنے آئے ہیں، اور انہوں نے سرحدی کشیدگی کے دوران حکومت کے ردِ عمل پر بھی وضاحت طلب کی ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ آیا قومی سلامتی کے معاملات پر پارلیمنٹ کو مکمل اعتماد میں لیا گیا تھا یا نہیں۔

یہ سوالات یقیناً حساس ہیں۔ مگر حساس سوالات کا جواب خاموشی یا شخصی حملے نہیں، بلکہ وضاحت اور دلیل ہوتے ہیں۔

جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار محض مخالفت کرنا نہیں بلکہ احتساب کرنا بھی ہے۔ آئین نے ہر منتخب نمائندے کو سوال پوچھنے کا حق دیا ہے۔ اگر سوال اٹھانا “خطرناک” قرار دیا جائے تو جمہوری توازن متاثر ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔

قومی سلامتی کے معاملات میں شفافیت اور ذمہ داری دونوں ضروری ہیں۔ اگر کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کی کتاب یا کسی عوامی بیان میں ایسے دعوے سامنے آتے ہیں جو تشویش پیدا کریں، تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح اور مدلل جواب دے۔ اس سے نہ صرف شکوک کا ازالہ ہوتا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔

سیاسی زبان کا درجہ جب دلیل سے ہٹ کر ذاتی حملوں تک پہنچ جائے تو جمہوریت کا معیار کمزور ہونے لگتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی سمجھ لینا اور سوال کو خطرہ قرار دینا ایک خطرناک رجحان ہے۔

عوام الزام تراشی نہیں، وضاحت چاہتے ہیں۔
وہ شور نہیں، شفافیت چاہتے ہیں۔
وہ کردار کشی نہیں، حقائق چاہتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کون خطرناک ہے،
اصل سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت میں سوال کرنا خطرناک ہو گیا ہے؟

ہندوستان کی جمہوری روایت کا تقاضا یہی ہے کہ سوالوں کا جواب دلیل سے دیا جائے، اختلاف کو برداشت کیا جائے، اور قومی مفاد کو سیاسی بیانیے سے بلند رکھا جائے۔


📰 Editorial

Is Asking Questions “Dangerous”? — A Test of Democracy

A recent political controversy in India has sparked an important democratic debate. A Member of Parliament from the ruling party described opposition leader Rahul Gandhi as “the most dangerous person.” The statement raises a deeper question: can raising questions in a democracy be considered dangerous?

Rahul Gandhi has recently demanded clarifications regarding certain international documents that have generated global discussion, and he has also sought answers concerning the government’s response during periods of border tensions. He has questioned whether Parliament and the public were adequately informed on matters of national security.

These are undoubtedly sensitive issues. However, sensitive questions require reasoned responses—not silence or personal attacks.

In a democracy, the role of the opposition is not merely to oppose, but to hold the government accountable. The Constitution guarantees elected representatives the right to question those in power. If raising concerns is labeled “dangerous,” the balance of democratic functioning may be weakened. Dissent is not a threat to democracy—it is its strength.

National security demands both responsibility and transparency. If claims appear in a retired military officer’s book or in public discourse that raise concerns, the appropriate response is clarity and factual explanation. Transparency strengthens public trust; silence often fuels speculation.

When political discourse shifts from arguments to accusations, democratic culture suffers. Labeling dissent as a threat sets a troubling precedent.

Citizens do not seek rhetoric—they seek clarity.
They do not want confrontation—they want transparency.
They do not need character attacks—they need facts.

The real question is not who is “dangerous.”
The real question is whether asking questions has become dangerous in a democracy.

India’s democratic tradition calls for tolerance of dissent, respect for debate, and prioritizing national interest above partisan rhetoric.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading