25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
کیا ایک مخصوص مذہبی شناخت کو نشانہ بنانا خلافِ قانون نہیں؟ کیا آسام کے وزیرِ اعلی کو کھلی چھوٹ قانون نے دے رکھی ہے؟


نفرت کی علامت یا ریاستی اختیار کی توہین؟

جمہوریت کی عدالت میں ایک ویڈیو کا مقدمہ

ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد آئین، قانون اور انسانی وقار پر رکھی گئی ہے، مگر بعض اوقات اقتدار کے ایوانوں سے نکلنے والے اشارے ان بنیادوں کو لرزا دیتے ہیں۔ آسام کی حکمراں جماعت بی جے پی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ایک ویڈیو — جس میں وزیر اعلیٰ Himanta Biswa Sarma کو علامتی طور پر بندوق چلاتے اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مناظر میں داڑھی اور ٹوپی پہنے افراد کو نشانہ بنتے دکھایا گیا — اسی نوعیت کا ایک سنگین لمحہ ہے۔

یہ ویڈیو محض ایک بصری اشتعال نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ درج جملے جیسے “Point Blank Shot”، “No Mercy” اور “Foreigner Free Assam”، ایک مخصوص مذہبی شناخت کو خوف اور تشدد کے استعارے میں بدلتے دکھائی دیے۔ شدید عوامی اور سیاسی ردِعمل کے بعد ویڈیو حذف تو کر دی گئی، مگر سوال باقی ہے:
کیا نفرت انگیز علامت کو مٹانے سے اس کی ذہنی اور سماجی بازگشت بھی ختم ہو جاتی ہے؟

جمہوری ریاست میں اقتدار کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ اکثریت کے جذبات کو ہتھیار بنائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کی علامت بنے۔ ہندوستان کا آئین — بالخصوص آرٹیکل 14 (برابری)، آرٹیکل 15 (امتیاز کی ممانعت) اور آرٹیکل 21 (حقِ زندگی و وقار) — کسی بھی ریاستی یا سیاسی عمل کو اس کسوٹی پر پرکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔

الف نیوز کے نزدیک، یہ معاملہ محض ایک پارٹی ویڈیو نہیں بلکہ ریاستی اخلاقیات کا امتحان ہے۔ اگر اقتدار کی زبان میں بندوق کا استعارہ شامل ہو جائے، تو قانون کی آواز دھیمی پڑنے لگتی ہے، اور جمہوریت تماشہ بننے کا خطرہ مول لیتی ہے۔


When Power Flirts with Hate

A Constitutional Test for Indian Democracy

India’s democracy rests on the pillars of constitutional morality, rule of law, and human dignity. Yet, moments arise when symbols emerging from the corridors of power threaten to fracture these foundations. A now-deleted video shared by the Assam BJP’s official social media handle — featuring Chief Minister Himanta Biswa Sarma symbolically firing a gun, intercut with AI-generated visuals of bullets striking bearded men in skull caps — marks one such troubling moment.

Accompanied by captions such as “Point Blank Shot,” “No Mercy,” and “Foreigner Free Assam,” the video was widely criticised for visually and rhetorically targeting a religious community. While the post was eventually removed following public outrage, its deletion does not erase the deeper constitutional concern it raises.

In a democratic republic, state power is not meant to echo the impulses of majoritarian anger but to stand as a guarantor of minority rights. India’s Constitution — particularly Article 14 (Equality before Law), Article 15 (Prohibition of Discrimination), and Article 21 (Right to Life and Dignity) — draws a clear boundary between governance and incitement.

For Alif News, this episode is not merely about a provocative video; it is about the moral responsibility of authority. When the language of the state borrows the imagery of violence, the law risks losing its voice — and democracy risks being reduced to spectacle.


Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading