25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
حق کی گواہی اور ضمیر کا استعفیٰ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم Human Rights Watch کے اسرائیل-فلسطین ڈائریکٹر Omar Shakir نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ استعفیٰ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ضمیر کی وہ صدا ہے جو اُس وقت بلند ہوتی ہے جب سچ کی رپورٹ فائلوں میں مقید کر دی جائے۔

عمر شاکر، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے انسانی حقوق کی تحقیق سے وابستہ رہے، کا کہنا ہے کہ تنظیم کی نئی قیادت نے ایک ایسی رپورٹ کی اشاعت روک دی جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی سے انکار کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ رپورٹ غزہ میں تباہ ہوتے کیمپوں، مغربی کنارے میں خالی کیے جاتے پناہ گزین مراکز، اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے ادارے UNRWA کے خلاف وسیع تر کارروائیوں کو ایک تاریخی تسلسل میں جوڑتی تھی—جسے انہوں نے “نکبہ 2.0” کہا۔

نکبہ، یعنی 1948 کی وہ انسانی المیہ گھڑی جب سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینی اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیے گئے، اس رپورٹ کی روح میں سانس لیتا ہے۔ شاکر کے بقول، تاریخ کے پہلے زخم سے سبق سیکھے بغیر آج کے زخموں کا مداوا ممکن نہیں۔

اپنے استعفیٰ میں انہوں نے لکھا کہ اس عمل کے دوران ان کا ادارے کے غیرجانبدارانہ اور اصولی کام پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ کو داخلی جائزے میں منظوری مل چکی تھی، مگر بالا قیادت نے خدشات کے نام پر اسے روک دیا—یہ کہتے ہوئے کہ کہیں اسے اسرائیلی ریاست کی “یہودی شناخت” کے خلاف تعبیر نہ کر لیا جائے۔

تنظیم نے جواب میں کہا ہے کہ رپورٹ میں بعض قانونی نتائج اور حقائق کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی، اسی لیے اشاعت مؤخر کی گئی ہے۔ مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے: کیا سچ کو مضبوط کرنے کے نام پر خاموشی اختیار کرنا خود ایک کمزوری نہیں؟

عمر شاکر نے یاد دلایا کہ انہوں نے اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیق کی، اور ایک ایسے نظام کی نشان دہی کی جسے انہوں نے “نسلی امتیاز” قرار دیا۔ 2019 میں انہیں اسرائیلی حکومت نے ملک بدر بھی کیا—مگر تحقیق کی شمع بجھی نہیں۔

یہ خبر محض ایک استعفیٰ نہیں؛ یہ اس سوال کا اعلان ہے کہ جب انسانی حقوق کی زبان بھی سیاست کے خوف سے رک جائے، تو پھر مظلوم کی فریاد کہاں سنی جائے؟


When Conscience Resigns, Silence Speaks

The Israel–Palestine director of Human Rights Watch, Omar Shakir, has stepped down—an act that resonates less as an administrative exit and more as a moral rupture.

After more than a decade of documenting abuses, Shakir says he lost faith when a report accusing Israel of crimes against humanity—linked to the denial of Palestinian refugees’ right of return—was blocked under the organisation’s new leadership. The report sought to trace a historical continuum: from the erasure of refugee camps in Gaza to the emptying of camps in the West Bank, and the broader assault on UNRWA, the UN agency for Palestinian refugees. Shakir framed this unfolding tragedy as “Nakba 2.0,” urging the world to learn from the original catastrophe of 1948.

The Nakba—when some 750,000 Palestinians were forcibly displaced and thousands killed—was not a footnote in the report, but its moral core. According to Shakir, denying the right of return amounts to a crime against humanity.

In his resignation letter, he wrote of losing confidence in the integrity of the organisation’s processes. The report, he said, had passed internal reviews and was slated for publication, only to be paused amid concerns that critics might misinterpret it as a threat to Israel’s Jewish character.

Human Rights Watch responded by stating that the report raised complex legal questions and required further strengthening of its factual and legal foundations, insisting the review process is ongoing.

Yet the deeper question lingers: when the pursuit of precision delays the telling of truth, who bears the cost?

Shakir’s tenure included investigations across Israel, the occupied West Bank, and Gaza, documenting what he described as an apartheid system and persecution of Palestinians. In 2019, he was deported by the Israeli government for his advocacy—an exile that did not silence his work.

This story is not merely about a resignation. It is about the uneasy space where human rights, power, and fear intersect—and where the quieting of one voice echoes the suffering of many.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading