25°
Sunny, April 24, 2026 in Kathmandu
سپریم کورٹ سے سماجی کارکن یوگیندر یادو کا انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی پر سوال


خاموش اخراج، بے آواز اپیلیں اور ووٹ کے حق کا سوال

سپریم کورٹ ہند میں آج انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision – SIR) سے متعلق سماعت کے دوران سیاسی مفکر اور سماجی کارکن یوگیندر یادو نے ایک نہایت اہم اور فکری نکتہ عدالت کے روبرو رکھا۔ انہوں نے کہا کہ محض اس بنیاد پر کہ باضابطہ اپیلیں درج نہیں ہوئیں، یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ غلط اخراجات نہیں ہوئے، دراصل زبان کے ساتھ ایک فریب ہے، حقیقت کے ساتھ نہیں۔

یوگیندر یادو، جو بہار میں ہونے والی SIR کے خلاف عرضی گزاروں میں شامل ہیں، نے مؤقف اختیار کیا کہ لاکھوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے نکالے گئے، مگر انہیں اپیل کا حقیقی اور مؤثر راستہ فراہم ہی نہیں کیا گیا۔ ایسے میں عوام نے عدالت یا کمیشن کے دروازے کھٹکھٹانے کے بجائے وہی واحد راستہ اختیار کیا جو ان کے سامنے رکھا گیا—یعنی فارم 6 کے ذریعے خود کو نئے ووٹر کے طور پر دوبارہ درج کروانا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بہار میں انتخابی کمیشن نے 3.66 لاکھ ناموں کو “حذف شدہ” مانا، مگر باقی تقریباً 65 لاکھ ناموں کو سرے سے حذف ہی تسلیم نہیں کیا گیا۔ یادو کے مطابق یہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ جمہوری حق کی تشریح کو محدود کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حتیٰ کہ جن 3.66 لاکھ معاملات میں نام بعد میں بحال ہوئے، وہاں بھی رسمی اپیلیں اس لیے درج نہیں ہوئیں کیونکہ اپیل کا راستہ عملاً بند تھا—لوگوں کے سامنے صرف دوبارہ اندراج کا اختیار رکھا گیا۔

اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹیم کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ تقریباً 2.97 لاکھ ایسے نام، جو ابتدائی فہرست سے خارج ہو گئے تھے، آخری انتخابی فہرست میں دوبارہ نمودار ہوئے۔ یہ واپسی کسی اپیل کے ذریعے نہیں بلکہ بوتھ لیول افسران کے ذریعے فارم 6 جمع کروا کر ممکن ہوئی۔

یوگیندر یادو نے SIR کے ڈیزائن پر بھی بنیادی اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ انتخابی فہرستیں دنیا بھر میں تین اصولوں پر پرکھی جاتی ہیں: تکمیل، مساوات اور درستگی۔ ان کے مطابق SIR نے تکمیل کے اصول کو بری طرح متاثر کیا، کیونکہ کئی ریاستوں میں ووٹر آبادی کے تناسب میں اچانک اور غیر معمولی کمی دیکھی گئی، جو محض غلطیوں یا نقل اندراج سے وضاحت طلب نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جہاں بہار اور اتر پردیش جیسے صوبے ہجرت کے باعث ووٹروں میں کمی کی جزوی وضاحت پیش کر سکتے ہیں، وہیں تمل ناڈو اور گجرات جیسے صوبے—جو ہجرت قبول کرنے والی ریاستیں ہیں—وہاں بھی لاکھوں ووٹروں کا غائب ہو جانا اس دلیل کو بے وزن کر دیتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ہر ریاست سے ووٹر کم ہو رہے ہوں تو یہ مفروضہ قائم کرنا پڑے گا کہ شاید پورا ملک ہی بیرونِ ملک ہجرت کر رہا ہے—جو حقیقت سے بعید ہے۔

مساوات کے اصول پر بات کرتے ہوئے یادو نے کہا کہ SIR کے نتیجے میں خواتین ووٹروں کا تناسب ہر اُس ریاست میں گرا جہاں یہ عمل نافذ ہوا۔ ان کے مطابق تقریباً 60 لاکھ خواتین کا اخراج اس ڈیزائن کی خامی کا نتیجہ ہے، جبکہ بعض اقلیتی طبقات، خصوصاً مسلمانوں کے غیر متناسب اخراج کا اعتراف خود کمیشن کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

سماعت کے دوران سینئر وکیل کپل سبل نے انتخابی کمیشن کے طریقۂ کار کو شفافیت اور قانونی بنیاد کے حوالے سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت اختیارات کے باوجود، کمیشن کو قواعد و ضوابط کا پابند ہونا ہوگا۔ وہیں ایڈوکیٹ گوپال شنکر نارائنن نے اس نکتے پر زور دیا کہ ایک بار کسی شہری کا نام انتخابی فہرست میں شامل ہو جائے تو اس سے جڑے حقوق کو اس انداز میں ختم نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب وہ شخص کئی انتخابات میں ووٹ ڈال چکا ہو۔

یہ مقدمہ کل بھی سماعت کے لیے جاری رہے گا، مگر آج کی کارروائی نے یہ سوال پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کہ کیا جمہوریت میں خاموشی کو رضامندی سمجھا جا سکتا ہے، اور کیا ووٹ کے حق سے محرومی صرف ایک انتظامی عمل ہے یا آئینی زخم؟

“Silent Deletions, Unheard Appeals, and the Fragility of the Right to Vote”

Before the Supreme Court of India today, the debate over the Special Intensive Revision (SIR) of electoral rolls unfolded as more than a legal argument—it emerged as a moral interrogation of democratic process itself. Political activist and thinker Yogendra Yadav told the Court that the absence of formal appeals cannot be interpreted as proof that no wrongful deletions occurred. To do so, he said, would be a distortion of language rather than an engagement with reality.

Challenging the Bihar SIR, Yadav explained that millions of voters whose names were removed from the rolls were never meaningfully offered the option of filing appeals. Instead, they were left with a single practical choice: to re-enter the system by submitting Form 6 and registering again as “new” voters. According to him, this procedural funnel erased evidence of protest while preserving the illusion of consent.

Yadav pointed out that while the Election Commission acknowledged the deletion of 3.66 lakh voters, it refused to recognise nearly 65 lakh other exclusions as deletions at all. Even among the acknowledged cases, he argued, many names were restored without any formal appeals being recorded, simply because the appeal mechanism was functionally unavailable.

Data analysed by Yadav’s team revealed that nearly 2.97 lakh names initially excluded later resurfaced in Bihar’s final electoral roll—returning not through appeals, but through re-registration facilitated by booth level officers. He further noted anomalies in new voter data, observing that a disproportionately high number of so-called “new registrations” could not plausibly be explained by first-time voters alone.

Beyond numbers, Yadav mounted a structural critique of the SIR itself. Electoral rolls, he reminded the Court, must satisfy three universal standards: completeness, equity, and accuracy. The SIR, he argued, failed the test of completeness, as sudden and widespread declines in voter population ratios across multiple states pointed to a design defect rather than incidental error.

Migration, he said, could not explain why even in-migration states like Tamil Nadu and Gujarat witnessed massive voter losses. If every state was losing voters simultaneously, the explanation could not lie in internal movement alone. On equity, Yadav highlighted that women were disproportionately excluded wherever SIR was conducted, with gender ratios falling uniformly. He also referred to documented instances of disproportionate exclusion of minority communities.

Senior Advocate Kapil Sibal questioned the transparency of the Election Commission’s process, stressing that constitutional authority under Article 324 does not place the Commission above rule-based governance. Advocate Gopal Sankaranarayanan added that once a citizen’s name is included in the electoral roll, accrued rights cannot be withdrawn so casually, especially from individuals who have voted in multiple elections.

As the matter is set to continue tomorrow, today’s hearing has already cast a long shadow. It has raised a fundamental question for Indian democracy: when citizens are forced to return silently through back doors, can the absence of protest truly be called consent—or does it merely mark the quiet erosion of a constitutional right?


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading