نو کنگز کی گونج — مارچ 28 کو امریکہ بھر میں احتجاج کی نئی لہر
تحریر: الف نیوز ڈیسک
کمپیوٹر اسکرین پر ابھرتی ہوئی خبر، جس کے پس منظر میں روزمرہ زندگی کی ایک عام سی تصویر جھلک رہی ہے، دراصل ایک غیر معمولی سیاسی اضطراب کی نمائندہ ہے۔ امریکہ ایک بار پھر احتجاجی نعروں، عوامی غصے اور جمہوری سوالات کی گونج سننے جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، “No Kings” (نو کنگز) تحریک کے تحت 28 مارچ کو امریکہ بھر میں ایک نئی اور وسیع احتجاجی لہر کی تیاری جاری ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے اب تک کے سب سے بڑے عوامی احتجاج ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ احتجاج منیاپولس میں حالیہ واقعات کے بعد شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہوئے، جس نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
تحریک کے منتظمین کے مطابق، اس سے قبل ہونے والے مظاہروں میں لاکھوں افراد شریک ہو چکے ہیں، جبکہ اس بار اندازہ ہے کہ 90 لاکھ تک لوگ سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔
انڈیویزیبل (Indivisible) نامی تنظیم کے شریک ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایزرا لیون کے مطابق:
“یہ احتجاج امریکی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی ردعمل ثابت ہو سکتا ہے۔”
یہ احتجاج موجودہ امریکی سیاسی قیادت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کا اظہار ہیں، جہاں ناقدین صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اختیارات کے غیر معمولی ارتکاز اور آمرانہ طرزِ حکمرانی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
نو کنگز تحریک — کیا ہے یہ ؟
“No Kings” تحریک دراصل ایک علامتی اور نظریاتی احتجاج ہے، جس کا بنیادی نعرہ یہ ہے کہ
جمہوریت میں کوئی بادشاہ نہیں ہوتا، صرف عوام ہوتے ہیں۔
یہ تحریک مختلف سول رائٹس، جمہوریت نواز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ایک اتحاد ہے، جو اس خیال کے خلاف کھڑا ہے کہ کسی بھی منتخب حکمران کو لامحدود اختیار حاصل ہو۔
نو کنگز تحریک:
- آئینی بالادستی
- شہری آزادیوں
- امیگرینٹس کے حقوق
- اور طاقت کے ارتکاز کے خلاف مزاحمت
کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔
یہ احتجاج محض نعروں کا شور نہیں، بلکہ یہ اس سوال کی بازگشت ہیں کہ
کیا جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام ہے، یا مسلسل نگرانی اور مزاحمت بھی اس کا حصہ ہے؟
امریکی سڑکوں پر ابھرنے والی یہ آوازیں، اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جب اقتدار خود کو مطلق سمجھنے لگے، تو عوام تاریخ کا رخ موڑنے کے لیے خود قلم، آواز اور وجود بن جاتے ہیں۔





Leave a Reply