25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
گورنر کے خطاب پر تمل ناڈو اسمبلی کا سخت مؤقف


آئینی روایت یا آئینی تصادم؟ — گورنر کے خطاب پر تمل ناڈو اسمبلی کا سخت مؤقف

چنئی:
تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن نے اعلان کیا ہے کہ ڈی ایم کے ملک کی ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس آئینی روایت کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرے گی، جس کے تحت ہر سال اسمبلی کے پہلے اجلاس کا آغاز گورنر کے روایتی خطاب سے ہوتا ہے۔

یہ اعلان اس پس منظر میں سامنے آیا جب تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں گورنر کی جانب سے اسمبلی میں مکمل خطاب نہ پڑھنے کے عمل کو مسترد کر دیا گیا۔ قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ وہ خطاب، جو ریاستی حکومت نے تیار کر کے گورنر کو فراہم کیا تھا اور جو اراکینِ اسمبلی کے ٹیبلیٹس میں موجود تھا، پڑھا ہوا تصور کیا جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 176 کے مطابق گورنر پر لازم ہے کہ وہ حکومت کی تیار کردہ تقریر مکمل طور پر پڑھے۔ اس میں ذاتی رائے شامل کرنا یا کسی حصے کو حذف کرنا نہ صرف آئینی روح کے منافی ہے بلکہ ایوان کی روایت کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر آر این روی کا ایوان سے واک آؤٹ، نہ صرف قواعد بلکہ اسمبلی کے وقار کے خلاف اقدام ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے مطابق گورنر کے رویّے نے آئینی منصب کے احترام کو مجروح کیا ہے۔

اس موقع پر ایم کے اسٹالن نے سابق وزرائے اعلیٰ سی این انّا دورائی اور ایم کروناندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ گورنر کے عہدے کو غیر ضروری سمجھتے تھے، مگر جب تک یہ عہدہ موجود رہا، انہوں نے اس کا احترام برقرار رکھا۔ “ہم نے بھی یہی روایت نبھائی، مگر افسوس کہ گورنر نے ایک بار پھر تصادم کا راستہ اختیار کیا۔”

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ تمل ناڈو اسمبلی آٹھ کروڑ عوام کے جذبات کی نمائندہ ہے، اور گورنر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوامی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کریں، نہ کہ رکاوٹ بنیں۔ ان کے مطابق، یہ مسئلہ صرف تمل ناڈو تک محدود نہیں بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی گورنروں کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بعد ازاں، وزیرِ اعلیٰ نے سوشل میڈیا پر دی ہندو کے ایک اداریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا آج کا طرزِ عمل اس اداریے میں اٹھائے گئے خدشات کی تصدیق کرتا ہے، جہاں انہیں “Recalcitrant Governor” قرار دیا گیا تھا۔


Constitutional Convention or Constitutional Conflict? Tamil Nadu Assembly Takes a Firm Stand

Chennai:
Tamil Nadu Chief Minister and DMK president M. K. Stalin has announced that the DMK, along with like-minded political parties across the country, will work towards a Constitutional amendment to abolish the practice of beginning the first Assembly session of the year with the customary Governor’s address.

The statement followed the unanimous adoption of a resolution in the Tamil Nadu Legislative Assembly rejecting the Governor’s action of not reading the address in full. The resolution further declared that the speech prepared by the State government and uploaded on members’ tablets would be deemed as having been read.

Addressing the House, the Chief Minister stated that under Article 176 of the Constitution, the Governor is obligated to read the address in its entirety. There is no constitutional space for personal remarks or selective omissions in a speech prepared by an elected government.

Mr. Stalin described Governor R. N. Ravi’s walkout from the Assembly as a violation of constitutional norms, legislative tradition, and the dignity of the House. He said the Governor’s conduct had undermined the sanctity of the constitutional office.

Recalling the views of former Chief Ministers C. N. Annadurai and M. Karunanidhi, Mr. Stalin noted that while they believed the Governor’s post was unnecessary, they nevertheless respected the office as long as it existed. “We followed the same principle,” he said, “but regretfully, the Governor once again chose confrontation.”

The Chief Minister emphasised that the Tamil Nadu Legislative Assembly reflects the will and sentiments of eight crore people. The Constitution, he said, expects the Governor to act in cooperation with the elected government, not as an impediment. He added that similar tensions between Governors and State governments were visible in other States as well.

Later in the day, Mr. Stalin referred to an editorial in The Hindu, which had described the Governor as “recalcitrant,” stating that the events of January 20 only vindicated the editorial’s observations. He asserted that by refusing to read the government’s address, the Governor could not erase or obscure the achievements of the elected government over the past four years.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading