چاگوس جزائر کا معاملہ، گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ پھر زیرِ بحث
لندن — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے جس کے تحت چاگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کے حوالے کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو “انتہائی حماقت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی فیصلہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ حاصل کرنا کیوں ضروری ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ جزیرہ ڈیگو گارشیا — جہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک اہم فوجی اڈہ قائم ہے — کو ماریشس کے حوالے کرنا قومی سلامتی کے لیے خطرناک کمزوری کی علامت ہے۔ ان کے بقول چین اور روس جیسی عالمی طاقتیں ایسے اقدامات کو بغور دیکھتی ہیں اور صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن برطانیہ کے دورے پر موجود تھے۔ برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ اختلافات کے باوجود ہمیشہ دوستوں کی طرح معاملات حل کرتے آئے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
چاگوس جزائر کو 1965 میں ماریشس سے الگ کیا گیا تھا، جو اس وقت برطانوی نوآبادی تھا۔ 2019 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے ایک غیر پابند فیصلے میں برطانیہ سے کہا تھا کہ وہ ان جزائر کا کنٹرول چھوڑ دے، کیونکہ مقامی آبادی کو فوجی اڈے کے قیام کے لیے زبردستی بے دخل کیا گیا تھا۔
اسی فیصلے کے پس منظر میں 2024 میں برطانیہ اور ماریشس کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت خودمختاری ماریشس کو منتقل کی جا رہی ہے، تاہم ڈیگو گارشیا میں موجود فوجی اڈہ برطانیہ 99 سالہ لیز پر برقرار رکھے گا، جس پر سالانہ تقریباً 136 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں اس معاہدے کی حمایت کی تھی۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ برس اسے علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ یہ معاہدہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھا اور اس کی توثیق امریکہ، آسٹریلیا، فائیو آئیز کے دیگر اتحادیوں، نیز بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی کی ہے۔
Trump Reverses Stance on Chagos Islands, Links U.K. Decision to Greenland Ambitions
London — Former U.S. President Donald Trump has sharply criticized the United Kingdom’s decision to transfer sovereignty of the Chagos Islands to Mauritius, calling it an act of “great stupidity” and citing it as yet another reason why the United States “must acquire” Greenland.
In a statement posted on his social media platform, Trump expressed outrage over the plan to hand over Diego Garcia, home to a strategically vital U.S.–U.K. military base. He warned that global powers such as China and Russia would interpret the move as a sign of weakness.
The remarks coincided with a visit to the U.K. by U.S. House Speaker Mike Johnson, who sought to reassure British lawmakers that the long-standing alliance between Washington and London remains stable despite differences.
The Chagos Islands were separated from Mauritius in 1965, prior to the latter’s independence. In 2019, the International Court of Justice issued a non-binding opinion stating that Britain had unlawfully retained control of the territory after forcibly removing its inhabitants to make way for a military base.
This ruling paved the way for a 2024 agreement under which the U.K. would transfer sovereignty to Mauritius while retaining operational control of the Diego Garcia base through a 99-year lease, reportedly costing Britain around $136 million annually.
Notably, the Trump administration had earlier endorsed the agreement. Then–Secretary of State Marco Rubio described it as ensuring the long-term stability of the joint U.S.–U.K. military facility, calling it a “critical asset for regional and global security.”
Responding to Trump’s latest comments, a U.K. government spokesperson reaffirmed that Britain would “never compromise on national security,” emphasizing that the deal safeguards the base’s future and has been welcomed by the United States, Australia, other Five Eyes partners, as well as key allies including India, Japan, and South Korea.





Leave a Reply