سیّد اکبر زاہد
شہر کے بیچوں بیچ
ایک چیختی ہوئی سرخی کھڑی تھی
مگر اس کے سائے میں
ایک انسان خاموش مر گیا۔
اعداد نے لاش اٹھائی
فائل نے آنکھیں بند کیں
اور تجزیہ
اپنے الفاظ درست کرنے میں مصروف رہا۔
کسی نے نہیں پوچھا
یہ جو گرا ہے
یہ کس ماں کا خواب تھا
خبر نے کہا:
"یہ ضروری نہیں”
ضمیر نے آہستہ سے کہا:
"یہی سب سے ضروری تھا”
اور رات کے آخری پہر
سچ نے چراغ جلایا
اتنا سا
کہ انسان
دوبارہ دکھائی دے سکے۔




Leave a Reply